Urdu book · عقلیات اسلام

چند سوالات

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب اجتہاد ہے۔ اجتہاد کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ خدا نے جو بنیادی قانون (قرآن کی صورت میں) دیا ہے اور خدا کے رسول نے اس کی جو لسانی یا علمی تشریح کی ہے، اس کا گہر ا علم حاصل کرنا اور اس کو سامنے رکھ کر پیش آمدہ مسائل میں الہی قانون کا انطباق تلاش کرنا۔ اس انطباق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ قرآن وحدیث سے قانونی دفعات اخذ کر کے اس کو ہر زمانہ میں نافذ کیا جاتا رہے۔ بلکہ اس میں خود خارجی دنیا کے غیر متصادم قوانین کو الہی قانون کے ڈھانچہ میں قبول کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں عراق، مصر اور شام فتح ہوئے تو آپ نے ان ملکوں میں سابقہ رومی، یونانی اور ایرانی قانون مال گزاری کو باقی رکھا۔ البتہ جو چیزیں ظلم نظر آئیں، ان میں اصلاح و ترمیم کر دی۔ اسی طرح درآمد و برآمد اور کسٹم کے لیے یہ قانون مقرر کیا کہ بیرونی ممالک میں مسلمان تاجروں کے ساتھ جو معاملہ کیا جاتا ہے وہی معاملہ وہاں کے تاجروں کے ساتھ اسلامی سلطنت میں کیا جائے۔ اجتہاد کا عمل اسلام کی ہزار سالہ تاریخ میں مسلسل جاری رہا ہے۔ مدینہ کی ابتدائی ریاست (622-632ء) ایک سادہ عرب ریاست تھی جس میں پیغمبر اسلام نے الہی قانون کو نافذ کیا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے زمانہ میں جب اطراف کے متمدن ممالک اسلامی ریاست میں شامل ہوئے تو بہت سے نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ اس وقت عمر فاروق (644-636ء) نے اجتہاد سے کام لے کر نئے حالات کے مطابق الہی نظام کو قائم کیا جس کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی (1914-1857ء) کی کتاب الفاروق میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پھر خلافت عباسیہ کے زمانہ میں جب اسلامی سلطنت کو مزید وسعت ملی اور نظام زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو گیا تو امام ابو یوسف (798-782ء) سامنے آئے جو نہ صرف وقت کی سب سے بڑی سلطنت کے قاضی القضات (چیف جسٹس) تھے بلکہ موجودہ زمانہ کی اصطلاح میں وزارت قانون کا عہدہ بھی انھیں حاصل تھا۔ انھوں نے الہی قانون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page