چند سوالات
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
کونئے وسیع تر حالات سے ہم آہنگ کر دیا جس کا ریکارڈ خود ان کی لکھی ہوئی "کتاب الخراج" میں موجود ہے۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں جب دنیا کے حالات میں دوبارہ انقلابی تبدیلیاں ہوئیں تو ترکی سلطان عبدالعزیز عثمانی (1876-1860ء) کے حکم سے ماہرین قانون، فقہاء اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدہ داروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے وہ مجموعہ قانون مرتب کیا جو مجملۃ الاحکام الشرعیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مجلہ میں فقہ اسلامی کے اس حصہ کو، جس کو سول لاء یا دیوانی قانون کہا جاتا ہے، دفعہ وار قوانین کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔ یہ قانون 1918ء تک خلافت عثمانیہ میں رائج رہا اور مصر، سوڈان، شام، حجاز، عراق اور شرق اردن کی عدالتیں اسی کے مطابق فیصلے کرتی رہیں۔ آج بھی اردن اور سعودی عرب میں یہی قانون کسی قدر ترمیم کے ساتھ رائج ہے۔ مجلۃ الاحکام الشرعیہ ابتداً عربی اور ترکی زبانوں میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ترجمے انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ اجتہاد کا یہی طریقہ اختیار کر کے آج بھی الہی قانون کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے اور آئندہ بھی بنایا جاتا رہے گا۔ نوٹ: یہ مقالہ مذہب۔ اخلاق ۔ قانون پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار International Seminar on Religion-Morality-Law ( نئی دہلی ، 11-16 دسمبر 1973ء) کے موقع پر پڑھا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader