Urdu book · عقلیات اسلام

وحی الہام

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

وحی والہام قرآن میں ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھی کو وحی کی: وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (16:68)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں میں بعض ایسی نشانیاں ہیں جو وحی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان کا مطالعہ وحی الہی کے معاملہ کو انسان کے لیے قابل فہم بنا دیتا ہے۔ وحی کے عقیدہ کا مطلب خارجی ذریعہ علم سے رہنمائی کا آنا ہے۔ جانوروں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان اس قسم کا ذریعہ علم واضح طور پر موجود ہے۔ جانوروں میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں جن کی توجیہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو اپنے باہر سے ہدایات مل رہی ہیں۔ انہیں صفات میں سے ایک صفت جانوروں کی مہاجرت (migration) کا معاملہ ہے۔ خاص طور پر مچھلیوں اور چڑیوں کی مہاجرت اپنے اندر ایسی نشانیاں رکھتی ہے جس کے بعد وحی والہام کے معاملہ کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔ یہاں ہم مہاجر چڑیوں (migratory birds) کا حوالہ دیں گے۔ بہت سی چڑیاں ہیں جو خوراک کی تلاش میں یا موسم کی تبدیلی کی بنا پر ایسا کرتی ہیں کہ خاص خاص وقتوں میں اپنے اصل مقام سے ہجرت کرکے دوسرے موزوں تر مقامات پر جاتی ہیں اور پھر ایک خاص مدت کے بعد دوبارہ اپنے سابق مقام پر واپس آجاتی ہیں۔ ان پروازوں کے بارے میں موجودہ زمانہ میں نہایت وسیع مشاہدات کیے گئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں بے مقصد اڑان کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ ایک ماہر طیور کے الفاظ میں ان کی حیثیت نہایت اعلی درجہ کے جغرافی بندوبست (geographical arrangement) کی ہے۔ وہ اتناہی با معنی ہیں جتنا کسی انسان کا سوچا سمجھا ہوا سفر بامعنی ہوتا ہے۔ نیز مشاہدات کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں انتہائی صحیح طور پر مقر راستوں (well-defined flyways) پر انجام پاتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page