Urdu book · عقلیات اسلام

خدائی تمثیل

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

خدائی تمثیل دنیا کی چیزوں کو قرآن میں آیات (نشانیاں) کہا گیا ہے۔ یعنی وہ خدا کی خدائی کا تعارف ہیں۔ یہاں مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں مادی واقعات میں ربانی حقیقتوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ خدا کی مخلوقات گویا ایک اعتبار سے خدا کی تمثیلات ہیں۔ یہاں اس قسم کی چند تمثیلات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ دماغ ایک نشانی آدمی کو روزانہ نیند آتی ہے اور وہ سو جاتا ہے۔ اس کو وقت پر بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام تجربہ ہے جو ہر انسان کو پیش آتا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک عام تجربہ ہے کہ دماغ کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو نیند اور بھوک دونوں اڑ جاتی ہیں۔ اب رات آتی ہے مگر آدمی سو نہیں پاتا۔ کھانے کا وقت آتا ہے مگر اشتہا نہ ہونے کی وجہ سے آدمی کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھائے۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس پورے معاملہ کا تعلق دماغ سے ہے۔ انسان کا جسم بظاہر اسباب کا ایک نظام ہے۔ مگر یہ نظام دماغ کے حکم کے تحت عمل کرتا ہے۔ دماغ حکم دیتا ہے کہ نیند آئے اس وقت آدمی کو نیند آتی ہے۔ دماغ حکم دیتا ہے کہ بھوک لگے اس وقت آدمی کو بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتا ہے۔ جب دماغ کسی ناگہانی سبب سے منتشر ہو جائے تو وہ اپنے معمول کے احکام نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں جسم کا نظام معطل ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی واقعہ چھوٹی سطح پر زیادہ بڑے واقعہ کا نمونہ ہے۔ یہ خدا کی خدائی کو سمجھنے میں ہماری مدد کر رہا ہے۔ دماغ کا جو تعلق جسم سے ہے، وہی تعلق خدا کا پوری کائنات سے ہے۔ کائنات بظاہر ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا ڈھانچہ اسباب و علل کا ایک کارخانہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر ان سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page