Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اوپر ایک برتر دماغ ہے اور وہ خداوند عالم کی ذات ہے۔ دنیا کا ہر واقعہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ خدا اس کا حکم دے۔ رات اور دن کا آنا، فصل کا اگنا، بارش کا برسنا، زندگی اور موت کے واقعات سب کے سب براہِ راست خدا کی طرف سے کنٹرول ہو رہے ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں یہ پورا کا پورا کُن فَيَكُونُ کا نظام ہے۔ یعنی، خدا جس چیز کو کہتا ہے کہ ہو، وہ ہو جاتی ہے۔ اور خدا جس چیز کے ہونے کا حکم نہیں دیتا وہ نہیں ہوتی (البقرہ، 117)۔ موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کے مادی واقعات معنوی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ دماغ اور جسم کا تعلق خدا اور کائنات کے تعلق کی تمثیل ہے۔ آدمی اگر چاہے تو خود اپنی ذات میں خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ نہ چاہے تو ساری کائنات بھی اس کو معرفت تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں۔ زبان والے بے زبان ہو جائیں گے نئی دہلی کی بعض سڑکوں پر سواریوں کو کنٹرول کرنے کا نیا نظام قائم کیا گیا ہے۔ یہاں سڑک کے اوپر ٹیلی ویژن کیمرے نصب ہیں جو آنے جانے والی سواریوں کا مسلسل فوٹو لیتے رہتے ہیں۔ یہ فوٹو مشینی انتظام کے ذریعہ ایک علیحدہ کمرہ (کنٹرول روم) میں پہنچتے ہیں جہاں ایک سرکاری انسپکٹر لوگوں کی نظروں سے دور بیٹھا ہوا ان کی تمام حرکات کو اسکرین پر دیکھتا رہتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آپ کسی منظر سے دور رہتے ہوئے اس کو اپنے گھر کے ٹیلی ویژن سیٹ پر دیکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سڑک پر لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے ہیں۔ بند کمرہ میں بیٹھا ہوا آدمی جب کسی مسافر کو غلط چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو فوراً وہ لاؤڈ اسپیکر پر اس کو متنبہ کرتا ہے۔ مسافر بولنے والے کی آواز سنتا ہے، اگرچہ وہ بولنے والے کو نہیں دیکھتا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک ڈرائیور جو تین پہیہ والا اسکوٹر رکشہ چلا رہا تھا، اس نے اپنا اسکوٹر ایسے مقام پر کھڑا کیا جہاں گاڑی کھڑی کرنا منع تھا۔ انسپکٹر نے اپنے کمرے کی اسکرین پر اس کو دیکھا اور فوراً لاؤڈ اسپیکر پر بولتے ہوئے چیتاؤنی دی کہ تم نے اپنا اسکوٹر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page