زبان والے بے زبان ہو جائیں گے
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد سپاہی اس کو انسپکٹر کے پاس کنٹرول روم میں لے گیا۔ انسپکٹر کے سامنے بھی ڈرائیور نے وہی بات کہی جو اس نے سپاہی سے کہی تھی۔ انسپکٹر نے جب دیکھا کہ ڈرائیور اپنے جرم کا اقرار نہیں کر رہا ہے تو اس نے اپنی مشین کو پیچھے کی طرف گھمایا اور ڈرائیور کی فلم اس کے سامنے چلا دی ۔ اچانک اسکرین پر ڈرائیور اور اس کا اسکوٹر دکھائی دینے لگا۔ اب ڈرائیور مشین کے سامنے کھڑا ہوا اپنی تمام سابقہ حرکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ اپنا اسکوٹر چلاتے ہوئے آیا۔ پھر اس کو نظر آیا کہ وہ اپنا اسکوٹر اس مقام پر کھڑا کر رہا ہے جہاں گاڑی کھڑا کرنا منع تھا۔ اس کے بعد وہ اسکوٹر سے باہر آیا اور دیر تک بے فکری کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا رہا۔ وہ اطمینان کے ساتھ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا اور سگریٹ پی رہا تھا۔ یہاں تک کہ انسپکٹر کا بھیجا ہوا سپاہی اس کے پاس آ گیا۔ اب اس نے جلدی سے اپنا اسکوٹر اسٹارٹ کر دیا اور ظاہر کیا کہ وہ تو راہ چلتے ہوئے ایک منٹ کے واسطے یہاں رکا تھا اور اب آگے جا رہا ہے۔ یہ ساری کہانی متحرک تصویروں کی صورت میں ڈرائیور نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ اس سے پہلے ڈرائیور نے انسپکٹر کی باتوں کا انکار کر دیا تھا۔ اس کے پاس اپنی برأت ظاہر کرنے کے لیے بے شمار الفاظ تھے۔ مگر اسکرین نے جب اس کے ماضی کی پوری داستان اس کے سامنے ہو بہو دہرادی تو اچانک اس کی زبان بند ہوگئی۔ اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔ اس منظر کو دیکھ کر اس کا ایسا حال ہوا جیسے وہ گونگا ہو گیا ہے اور اب اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس کا جرم اتنا زیادہ ثابت ہو چکا تھا کہ اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت بھی نہ تھی کہ میں مجرم ہوں۔ وہ خاموش تھا مگر اس کی خاموشی ہر گفتگو سے زیادہ یقینی صورت میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader