عقلیات اسلام
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جرم کا اقرار بن گئی تھی (ہندوستان ٹائمز، 20 فروری 1980ء)۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ دو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تب تم اس کو پہچان لو گے جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے: َوقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُوهَا (27:93)۔ مذکورہ بالا قسم کے واقعات جو موجودہ زمانہ میں پیش آرہے ہیں وہ شاید اسی پیشین گوئی کی تصدیق ہیں۔ اللہ کی طرف سے پکارنے والے لوگوں کو آخرت کی چیتاؤنی دے رہے ہیں۔ مگر آدمی خدائی آواز پر توجہ نہیں دیتا۔ وہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے دلائل کا انبار لگا رہا ہے۔ داعی حق کے پیغام کو رد کر کے بھی موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو محفوظ اور مطمئن محسوس کر رہا ہے۔ داعی حق کو ماننا اور اس کا ساتھ دینا اس کو ایسا کام نظر آتا ہے جس کی اسے کوئی ضرورت نہ ہو۔ مگر اس کی پوری زندگی حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادے بھی خدا کے چھپے ہوئے انتظام کے تحت ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ قیامت جب آئے گی تو آدمی کے سامنے اس کی سابقہ زندگی کی یہ فلم اس طرح دُہرا دی جائے گی کہ وہ اپنی سوچ، اپنا قول اور اپنا عمل سب کچھ آنکھوں سے دیکھے گا اور کانوں سے سنے گا۔ اس وقت انسان کا جو حال ہوگا اس کا ایک معمولی نقشہ مذکورہ اسکوٹر ڈرائیور کے انجام میں نظر آ رہا ہے۔ آدمی اس وقت اتنا بد حواس ہوگا کہ وہ اپنے الفاظ بھول جائے گا۔ اس کے دلائل اس وقت بالکل بے معنی معلوم ہوں گے۔ اس کا انکار اس وقت ایک ایسی چیز کا انکار بن جائے گا جو ساری کائنات میں اسی طرح معلوم اور ثابت شدہ بن چکا ہو جیسے ہمارے سروں پر چمکنے والے سورج اور چاند۔ سننے والا سن رہا ہے امریکا کے خفیہ محکمہ (N.S.A) کے ایک سابق افسر نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے The Puzzle Palace۔ اس کتاب میں اس کے مصنف نے بڑے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader