عقلیات اسلام
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکا سے بھیجے جانے والے ٹیلی فون، ٹیلكس اور تار کے پیغامات کی تعداد ہر روز ایک ملین سے زیادہ ہوتی ہے۔ جدید نظام کے مطابق یہ پیغامات پہلے ورجینیا کے زمینی اسٹیشن (earth station) پر موصول ہوتے ہیں۔ وہاں سے وہ مصنوعی سیارہ کی طرف بھیجے جاتے ہیں جو 2300 میل اوپر زمین کے چاروں طرف گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا عمل فی الفور ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں انجام پاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مشینی پیغام جو امریکہ سے باہر جاتا ہے یا امریکا کے اندر آتا ہے وہ اصل مخاطب تک پہنچنے سے پہلے امریکی حکومت تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ امریکہ کا خفیہ محکمہ جن لوگوں کے پیغامات کو جاننا چاہتا ہے، ان کا نمبر وہ زمینی اسٹیشن کے دفتر میں دے دیتا ہے۔ یہاں مذکورہ افراد کی گفتگوئیں اور پیغامات خود کار آلات کے ذریعہ ریکارڈ ہوتے رہتے ہیں۔ گویا آپ اگر واشنگٹن سے دہلی کے لیے ٹیلی فون کریں تو آپ کے منہ سے جو الفاظ نکلیں گے، قبل اس کے کہ آپ کا مخاطب ان کو سنے، امریکا کی حکومت ان کو سن چکی ہوگی۔ ٹائمز آف انڈیا (19 دسمبر 1982ء) کے امریکی نامہ نگار نے اس کی رپورٹ دیتے ہوئے اس کا عنوان قائم کیا ہے۔ ہوشیار! ممکن ہے کہ امریکا آپ کی بات سن رہا ہو: Careful, Unlce Sam may be listening. اس قسم کے واقعات خدا کی نشانی ہیں۔ وہ اس لیے ہورہے ہیں تاکہ آدمی اپنی زبان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ایک غلط بات کہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں صرف ایک آدمی سے کہہ رہا ہوں مگر آدمی کو جاننا چاہیے کہ اس کی بات اس کے مخاطب سے پہلے خدا تک پہنچ رہی ہے۔ مذکورہ واقعہ زبان حال سے کہہ رہا ہے—اے انسان، ہوشیار رہو، کیوں کہ تیری ہر بات کو خدا سن رہا ہے۔ ریموٹ کنٹرول موجودہ زمانے نے انسانی لغت میں نئے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ ان میں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader