Urdu book · عقلیات اسلام

غیبی نگرانی

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

سے پہلے تمام شرکا کی نگاہیں زرق برق اسٹیج پر لگی ہوئی تھیں جہاں دولہا اور دلہن رونق افروز تھے، مگر اب ان کی توجہ کا مرکز دوسرا تھا۔ جس منظر کو اس سے پہلے انھوں نے صرف تفریح کی نظر سے دیکھا، اب اس کو انھوں نے تفتیش کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ بہت جلد لوگوں کی نگاہیں ایک عورت پر جم گئیں جو ایک لڑکے کے ساتھ آیا کے روپ میں ہال کے اندر داخل ہوئی تھی۔ ابتداء میں لوگوں نے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا کہ وہ معزز مہمانوں میں سے کسی مہمان کے ساتھ آئی ہے۔ مگر اب اس کو ایک امکانی مجرم کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ یہ عورت جو آیا کے روپ میں آئی تھی وہ اس سے بالکل بے خبر تھی کہ یہاں ویڈیو کیمرہ نصب ہے اور اس کی نظریں ہر لمحہ اس کو دیکھ رہی ہیں۔ وہ اس کی ہر حرکت کا نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہی ہیں۔ وہ مشتبہ انداز میں ادھر سے اُدھر جارہی تھی۔ آخر کار لوگوں نے دیکھا کہ اس’’آیا‘‘ نے شال میں چھپا ہوا اپنا ہاتھ باہر نکالا اور نہایت تیزی سے مذکورہ پرس کو اٹھا کر عین اس وقت اس کو اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا جب کہ پرس کی مالکہ فوٹو کھنچوانے کے پروگرام میں کھوئی ہوئی تھی۔ جو واقعہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا اس کو ویڈیو کیمرہ کی نگاہ نے بتا دیا جو مجموعی طور پر سارے منظر کی تصویر کشی کر رہا تھا۔ فوراً پولیس بلالی گئی اور پولیس کے سامنے دوبارہ پوری فلم چلائی گئی۔ جرم ثابت ہو گیا تھا۔ مذکورہ عورت کو پولیس نے تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔ اس کا نام اخبار میں شیلا بتایا گیا ہے جو سلطان پوری کی رہنے والی ہے۔ ہندوستان ٹائمز (16 مارچ 1985) نے یہ کہانی تفصیل کے ساتھ شائع کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ لکھا ہے: You can not only spot the thief but see her commit the crime آپ نہ صرف چور کو پکڑ سکتے ہیں بلکہ اس کو جرم کرتے ہوئے دیکھ بھی سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page