عقلیات اسلام
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دنیوی واقعہ آخرت کے واقعہ کا آئینہ ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتا رہا ہے کہ کوئی بالا تر دیکھنے والا ہے جو ہر ایک کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ان باتوں کو نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہا ہے جس کی خبر نہ قریب کے لوگوں کو ہوتی اور نہ دور کے لوگوں کو۔ وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جس کو لوگ نہیں جانتے۔ وہ ان چیزوں کو بھی دیکھتا ہے جن کو لوگ نہیں دیکھتے۔ دنیا کے واقعات آخرت کی حقیقتوں کا آئینہ ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ان واقعات کو دیکھا جا سکتا ہے جو کل کے دن پیش آنے والے ہیں۔ مگر اس مشاہدہ کے لیے بصیرت کی نگاہ درکار ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو آنکھ والوں کے پاس بھی اکثر موجود نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں اب ایسے ٹیلیفون استعمال ہو رہے ہیں جن کے ساتھ کمپیوٹر کا پیچیدہ نظام وابستہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مواصلات کا نظام بالکل نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے بہت سے شہروں میں ایک نیا ٹیلیفون سسٹم پچھلے ایک سال کے اندر رائج ہوا ہے۔ یہ ٹیلیفون صرف تین گنتیوں پر انگلی مارنے سے عمل کرتا ہے 911۔ کوئی شخص ہنگامی حالت میں مدد کے لیے ان تین نمبروں پر انگلی مارتا ہے اور فی الفور اس کو اس کی مطلوبہ مدد مل جاتی ہے۔ امریکہ کی ایک ٹیلیفون کمپنی نے ایسا سسٹم وضع کیا ہے کہ آدمی 911 پر انگلی چلاتا ہے اور دوسری طرف کا خود کار نظام بغیر بتائے یہ معلوم کر لیتا ہے کہ کال کس نمبر کے ٹیلیفون سے آ رہی ہے۔ مزید یہ کہ خود کار نظام عین اسی وقت نمبر کو پتہ میں تبدیل کر لیتا ہے بغیر اس کے ڈائل کرنے والا ایک لفظ بھی بولا ہو۔ حتیٰ کہ یہ خود کار نظام یہ بھی معلوم کر لیتا ہے کہ پکارنے والے کو کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے پولیس کی یا آگ بجھانے کی یا ایمبولنس کی۔ فلوریڈا کا واقعہ ہے کہ ایک گھبرائی ہوئی عورت نے 911 کو ڈائل کیا مگر وہ کچھ بول نہ سکی۔ تاہم خود کار سسٹم نے بندوق کی آواز سن کر معاملہ کی نوعیت سمجھ لی۔ صرف چند منٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader