Urdu book · عقلیات اسلام

ایک لمحہ میں

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر پولیس کی گاڑی حادثہ کے ٹھیک پتہ پر روانہ ہوچکی تھی۔ عورت کا ایک رشتہ دارکسی بات پر بگڑ کر گھر میں گھس آیا تھا اور گولی چلا رہا تھا۔ مجرم فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح امریکا میں ایک گونگے اور بہرے آدمی کو ہنگامی طور پر مدد کی ضرورت تھی۔ اس نے 911 ڈائل کیا اور مزید کچھ بتائے بغیر مد داس کے دروازہ پر موجود تھی۔ ان مثالوں میں کمپیوٹر نے مجرد کال کو اس کے ٹیلیفون نمبر میں تبدیل کیا۔ پھر ٹیلیفون نمبر کو گھر کے پتہ میں بدلا۔ اس کے بعد اس نے بلا تاخیر وائرلیس پر پولیس کو اطلاع کر دی۔ قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بندہ جب خدا کو پکارتا ہے تو فوری طور پر بندہ اور خدا کے درمیان ربط قائم ہو جاتا ہے۔ خدا کو پکارنے اور اس سے مربوط ہونے میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ ٹیلی فونی ربط کا مذکورہ واقعہ اسی روحانی حقیقت کی مادی تمثیل ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ بندہ جب اپنے رب کی یاد سے بے قرار ہو کر اس کو پیتا باب نہ پکارتا ہے تو اچانک وہ اپنے آپ کو اس سے انتہائی قریب پاتا ہے۔ وہ ایک لمحہ میں اس سے مربوط ہو جاتا ہے۔ پردہ ہٹے گا ٹائمس آف انڈیا (2 جولائی 1985ء) میں دہلی کا ایک واقعہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے : اس سے زیادہ کہ ہضم ہو سکے۔ واقعہ کو ہم اخبار کے اصل الفاظ میں نقل کرتے ہیں: IT'S TOO MUCH TO STOMACH: Narain Das, 20, an alleged chain snatcher, swallowed his loot when he was given the chase in Greater Kailash yesterday. Narain Das removed a gold chain from around the neck of Ms Renu Saxena, a schoolteacher. According to the police, the incident occurred soon after Ms Saxena got off a bus while returning from

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page