Urdu book · عقلیات اسلام

خدائی نشان

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد وہ جہنمی لمحات (hellis minutes) میں تبدیل ہوگئی۔ یہ جہاز رانی کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ بھایانک حادثہ تھا۔ تین جہازوں کے پائلٹ اپنے جہازوں کے ساتھ فوراً ہلاک ہوگئے۔ نمائش دیکھنے والوں میں تقریباً 400 آدمی جل کر یا تو شدید زخمی ہوئے یا پھر مر کر ختم ہوگئے۔ یہ حادثہ اتنا اچانک تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ بھی کوئی تماشہ ہے۔ ایک شخص نے کہا: I thought it was just some kind of special effect. اس ہوائی مظاہرے کی تصویریں ٹیلی ویژن پر لی جارہی تھیں۔ چنانچہ شروع سے آخر تک تمام مناظر رنگین تصویروں کی صورت میں ریکارڈ ہوگئے۔ ٹائم کی مطبوعہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ جہازوں کے ٹکراتے ہی زبردست آگ لگ گئی۔ جہازوں کے جلتے ہوئے ٹکڑے کھڑی ہوئی کاروں پر گرتے ہیں اور کاریں جلنے لگتی ہیں۔ تماشائیوں کے مجمع کے اوپر آگ سرخ بادل کی طرح انڈ پڑتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آسمان سے جہنمی آگ کا بہت بڑا گولہ گر پڑا ہو۔ اس نقشہ کو دیکھیے ۔ دس ہوائی جہاز ایک ساتھ اڑ کر اوپر پہنچتے ہیں۔ پھر ان میں سے پانچ جہاز ایک طرف اور چار جہاز دوسری طرف جا کر اپنے پیچھے سے لال، سفید اور ہرے رنگ کا دھواں نکالتے ہوئے فضا میں دل کی شکل (یان پان کے پتے کی شکل) بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک جہاز بیچ سے الگ ہو کر پیچھے کی طرف جاتا ہے اور پھر واپس ہو کر ”دل‘‘ کے اندر سے پار ہو کر باہر نکل جانا چاہتا ہے، نیچے ”ستارہ‘‘ کے مقام پر وہ دوسرے جہاز سے ٹکرا جاتا ہے۔ کیوں کہ مقررہ حساب کے خلاف وہ کسی قدر جلد اور کسی قدر نیچے آگیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page