Urdu book · عقلیات اسلام

خدائی نشان

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ لوگ بدحواسی کے عالم میں ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ ایک شخص نے کہا: میں چیخ پڑا کہ ہائے خدا، میں نے اوپر دیکھا تو وہاں آگ کے سوا اور کچھ نہ تھا: یہ ہوائی مظاہرہ انتہائی تربیت یافتہ فوجی پائلٹ انجام دے رہے تھے۔ منتظمین کو ان کی مہارت پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ وہاں کوئی ایمبولینس کا ر تک موجود نہ تھی۔ وہ اس قسم کے حادثہ کی بالکل امید نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانے میں سخت مشکل پیش آئی۔ اس انسانی واقعہ میں بہت بڑا خدائی سبق ہے۔ وہ یہ کہ ’’دل کے درمیان سے تیر‘‘ گزارنے کا جو عمل جرمنی کے ہوا بازوں نے بہت چھوٹے پیمانہ پر کرنا چاہا اور وہ اس میں نا کام رہے ۔ یہی عمل بہت زیادہ بڑے پیمانہ پر وسیع کائنات میں ہر آن ہورہا ہے، مگر یہاں کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آتا۔ آسمان میں ستاروں کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی تمام سمندروں کے کنارے ریت کے ذروں کی تعداد ہے۔ یہ تمام ستارے ہر لمحہ نہایت تیزی سے حرکت کر رہے ہیں۔ مگر ان میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ ایک کہکشاں جس کے اندر اربوں کی تعداد میں بڑے بڑے ستارے ہوتے ہیں، وہ حرکت کرتی ہوئی دوسری کہکشاں کے اندر داخل ہوتی ہے اور پھر اس کے پار ہو جاتی ہے، مگر دونوں کہکشاؤں کے ستارے آپس میں نہیں ٹکراتے ۔ یہ واقعہ کھلا ہوا ثبوت ہے کہ کوئی بہت بڑا انتظام کرنے والا ہے جو اس کائنات کا انتظام کر رہا ہے۔ ایک اتھاہ قوتوں والا انتظام کار اگر اس دنیا کے پیچھے نہ ہو تو سارا کا ئناتی کارخانہ اسی طرح تباہ و برباد ہوکر رہ جائے جس طرح جرمنی کی ہوائی نمائش تباہ ہو کر رہ گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page