Urdu book · عقلیات اسلام

علم کی واپسی

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

نیوٹن (1727-1642ء) کا ظہور تاریخ میں ایک نئے فکری دور کا آغاز تھا۔ اس کی تحقیق یہ تھی کہ کائنات اپنے متعین قوانین کے تحت عمل کرتی ہے، کچھ طبعی اسباب ہیں جو واقعات عالم کے پیچھے کارفرما ہیں۔ حتیٰ کہ کائنات کا ماضی، حال اور مستقبل سب علت و معلول کی مسلسل کڑیوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ نیوٹن اگرچہ ذاتی طور پر خدا کو مانتا تھا، مگر بعد کے مفکرین نے کہا کہ جب کائنات کے متعلق معلوم ہو گیا کہ وہ معلوم طبعی قوانین کے تحت حرکت کرتی ہے تو پھر ایک نامعلوم خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ اس طرح افکار کی دنیا میں اصول تعلیل (principle of causation) کا رواج ہوا جو بعد کو پوری طرح خدا اور مذہب کا بدل سمجھ لیا گیا۔ نیوٹن پہلا شخص ہے جس نے اصولِ تعلیل کا علمی انطباق طبعی دنیا پر کیا۔ ڈارون (1882-1809ء) پر منکشف ہوا کہ یہی اصولِ تعلیل حیاتیات کی دنیا میں بھی کام کر رہا ہے۔ یعنی انسان کی پیدائش اچانک ایک روز کسی خالق کے حکم سے نہیں ہوئی، بلکہ وہ قوانینِ ارتقاء کے تحت لمبے عمل کا آخری نتیجہ تھی۔ ڈارون بذات خود اس عملِ ارتقاء کو ایک خالق (Creator) کا منصوبہ سمجھتا تھا۔ مگر بعد کے مفکرین نے خالق کے تصور کو ڈارون کا ذاتی عقیدہ قرار دیا اور نظریہ ارتقاء کو الحاد کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک اس دنیا کا خالق ’’ارتقا‘‘ تھا نہ کہ کوئی ’’خدا‘‘۔ مارکس (1883-1818ء) وہ شخص ہے جس نے اس اصولِ تعلیل کو انسان کی سماجی زندگی پر منطبق کیا اور کہا کہ انسانی سماج اور انسانی تاریخ بھی ایک ناگزیر مادی قانون کے تحت سفر کر رہے ہیں۔ سماجی سفر میں جدلیاتی عمل (dialectical process) کی کارفرمائی کا تصور اگرچہ اس نے ہیگل (1831-1770ء) سے لیا تھا جو اس عمل کے پیچھے ایک روحِ عالم (ورلڈ اسپرٹ) کو مانتا تھا۔ مگر مارکس نے روحِ عالم کے بجائے معاشی قوانین کو جدلیاتی عمل کا ہیر و قرار دیا اور اس طرح ہیگل کی تصویر یت (آئیڈیلزم) کو خالص مادیت (میٹریلزم) میں بدل ڈالا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page