علم کی واپسی
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح تقریبا ڈیڑھ سو سال کے مسلسل عمل سے وہ فکر بنا جس کو جدید الحاد کہا جاتا ہے۔ اس الحاد کا کہنا تھا کہ اب علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کوئی خدا نہیں ہے بلکہ اسباب وعلل (Cause and Effect) کا ایک طبعی قانون ہے۔ اسی طبعی قانون نے لمبے عمل کے بعد عالم کو بنایا۔ اسی قانون کے ذریعہ ارتقائی مراحل سے گزر کر انسان تیار ہوا۔ اور پھر یہی وہ قانون ہے جو سماجی عمل کے اندر کارفرما ہے اور انسانی سماج کو غیر ترقی یافتہ حالت سے ترقی یافتہ حالت کی طرف لے جا رہا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے آتے ہی ان خیالات کی علمی بنیاد بالکل ڈھ گئی ۔ اس صدی کے آغاز میں پلانک اور آئن سٹائن اور ہیزن برگ اور ڈیر اک اور درفورڈ نے جو تحقیقات کیں اس کے بعد علم کا وہ پورا ڈھانچہ بدل گیا جس کے تحت مذکورہ ملحدانہ مفروضات قائم کر لیے گئے تھے۔ اب اصول تعلیل کا وہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا جس کو انیسویں صدی میں خدا کا علمی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ ہر کلے کی تصوریت (idealism) سو برس کی معزولی کے بعد، فلسفہ میں دوبارہ واپس آ گئی۔ انیسویں صدی علمی دنیا میں الحاد کی صدی تھی۔ یہی صدی ہے جس میں عالم فطرت کے بارے میں کثرت سے نئے حقائق دریافت ہوئے ۔ یہ حقائق اگرچہ بذات خود مذہب سے متصادم نہیں تھے ۔ مگر ملحد فلاسفہ نے اپنے تعبیری اضافہ سے ان کے اندر الحادی عناصر ڈھونڈ لیے۔ اب ایک پورا نظام فکر ترتیب دیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنسی دریافتوں نے مذہبی صداقت کی تردید کر دی ہے۔ اب انسان کو فکری یا عملی اعتبار سے مذہب کی کوئی ضرورت نہیں، وہ سب کچھ جو مذہب دیتا تھا یا جس کے لیے مذہب کو ضروری سمجھ لیا گیا تھا، اب انسان اس کو زیادہ بہتر طور پر سائنس کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں علمی طور پر اس دعوے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ بعد کی تحقیقات اور بعد کے تجربات نے ایک ایک کر کے ان تمام باتوں کی تردید کر دی جن کی امید سائنس سے قائم کر لی گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader