Urdu book · عقلیات اسلام

علم کی واپسی

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا گیا تھا کہ دنیا کے وجود اور اس کی کارکردگی کی توجیہ کے لیے اب خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سائنس کی دریافتیں اس کی توجیہ وتشریح کے لیے بالکل کافی ہیں۔ مگر جدید معلومات اور تجربات نے انسان کو یہ اقرار کرنے پر مجبور کیا ہے کہ خدا کو مانے بغیر اس دنیا کی توجیہ ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ خدا اگر موجود نہ ہو تب بھی ہمیں اپنے مسئلہ کے حل کے لیے خدا کو ایجاد کرنا ہوگا: If God did not exist, it would be necessary to invent Him کہا گیا تھا کہ حقیقت اعلیٰ کا ادراک کرنے کے لیے انسانی علم سے اوپر کسی علم (الہام) کی ضرورت نہیں، سائنس تمام حقیقتوں کو جاننے کے لیے بالکل کافی ہے۔ مگر آج سائنس داں متفقہ طور پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ سائنس ہم کو حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality کہا گیا تھا کہ انسان کے اندر ذمہ داری کا احساس اور حق شناسی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے خدا کا خوف دلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ علمی اور تعلیمی ترقی خود بخود اس قسم کا احساس آدمی کے اندر پیدا کر دے گی۔ مگر تقریباً سوسالہ تجربہ کے بعد آج کا انسان یہ اقرار کر رہا ہے کہ علم اور اخلاقی احساس لازمی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں: Knowledge and moral responsibility are not necessarily interlinked کہا گیا تھا کہ زندگی کے عیش کے لیے کل کی جنت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمدنی تعمیر کے جدید امکانات جو انسان کی دسترس میں آتے ہیں وہ ہماری اسی زمین کو ہمارے لیے جنت بنا دیں گے۔ مگر تمدنی ترقیوں کے بعد اس سے پیدا شدہ بے شمار مسائل نے انسان کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ آج کا خوش نصیب انسان جس کو جدید معنوں میں تمام اسبابِ عیش حاصل ہیں، وہ حیران ہو کر کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو جدید معیار کے مطابق خوشگوار بنا لیا مگر اس کے باوجود میں اب بھی خوش نہیں: My life is pleasant, yet, I am unhappy

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page