سماجی مظہر نہیں
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
سماجی مظہر نہیں نیوکلیئر انرجی کو اگر آپ امریکا کا سماجی مظہر (social phenomenon) سمجھیں تو آپ کو نیوکلیئر انرجی سے نفرت پیدا ہو جائے گی ۔ کیوں کہ ایسی صورت میں نیوکلیئر انرجی کے معنی آپ کے نزدیک یہ ہو جائیں گے کہ خطر ناک بم بناؤ اور شہروں اور آبادیوں کو تباہ کرو۔ اس کے بر عکس، جب آپ نیوکلیئر انرجی کو قدرتی مظہر (natural phenomenon) سمجھتے ہیں تو آپ نیوکلیئر انرجی کو الگ دیکھتے ہیں اور امریکا یا کسی اور جنگی قوم کی طرف سے اس کے استعمال کو الگ۔ اب آپ ایٹم بم کو پسند نہیں کرتے مگر جہاں تک ”ایٹی“ انرجی کا تعلق ہے اس سے آپ کی دلچسپی بدستور باقی رہتی ہے۔ نیوکلیئر انرجی کے معاملہ میں کوئی شخص یہ غلطی نہیں کرتا کہ اس کو کسی جنگی قوم کا سماجی مظہر (social phenomenon) سمجھ لے۔ مگر مذہب کا مطالعہ کرتے وقت کچھ لوگ یہی غلطی کرتے ہیں۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی صداقت (divine truth) ہے۔ مگر علم الانسان (anthropology) میں مذہب کا مطالعہ اکثر ایک سماجی مظہر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مذہب کا تصور لوگوں کی نظر میں غلط ہو کر رہ گیا ہے۔ اس طرز مطالعہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے ذہن میں نظریہ اور عمل کا فرق باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر مسلمان قوم میں جو کچھ عملاً کر رہی ہیں اسی کو آج کل کے بہت سے لوگوں نے اسلام سمجھ لیا ہے۔ یہی وہ طرز مطالعہ ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کا خنجر (Dagger of Islam) اور محمد کی تلوار (Sword of Muhammad) جیسی کتابوں کو جنم دیا ہے۔ ان مصنفین نے یہ دیکھا کہ مسلمان خنجر اور تلوار کا استعمال کر رہے ہیں تو انھوں نے اپنے مخصوص تصور مذہب کی وجہ سے یہ سمجھ لیا کہ اسلام نام ہے تلوار اور خنجر کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader