Urdu book · عقلیات اسلام

مذہب پر علمی استدلال

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے مشاہدہ میں آتے ہیں بلکہ ان مشاہدات کے ماورا بھی بہت سی حقیقتیں ہیں بلکہ تمام بڑی بڑی حقیقتیں مشاہدات کے ماورا ہی پائی جاتی ہیں۔ برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں علم کی دو قسمیں ہیں: چیزوں کا علم (Knowledge of things) اور صداقتوں کا علم (Knowledge of truths)۔ ہم براہِ راست طور پر صرف ”چیزوں“ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد جو” صداقتیں“ ہیں، وہ صرف بالواسطہ مشاہدہ، بالفاظ دیگر صرف استنباط (inference) کے ذریعہ جانی جا سکتی ہیں ۔ مثلاً (light) کشش (gravity) مقناطیسیت (magnetism) جوہری طاقت (nuclear energy) وغیرہ۔ یہ سب بلاشبہ کائنات کا مسلمہ حقیقتیں ہیں، مگر انسان ان کو براہِ راست طور پر نہیں دیکھتا۔ وہ صرف ان کے اثرات (effects) کے ذریعہ ان کو جانتا ہے۔ انسان کے تجربہ میں کچھ ”چیزیں“ آتی ہیں جن سے وہ استنباط کرتا ہے کہ فلاں فلاں ”صداقتیں“ یہاں پائی جا رہی ہیں۔ بیسویں صدی میں علم کی اس تبدیلی نے بنیادی طور پر سارے معاملے کو بدل دیا۔ انسان مجبور ہو گیا کہ وہ ایسی چیزوں کے وجود کا اعتراف کرے جن کو وہ براہِ راست نہیں دیکھتا۔ البتہ بالواسطہ تجربات بتاتے ہیں کہ فلاں قسم کی حقیقت یہاں موجود ہونی چاہیے۔ علم کی اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ مشاہداتی حقیقت اور غیبی حقیقت کے فرق کو ختم کر دیا۔ اب نہ دیکھی جانے والی چیز بھی اتنی ہی اہم بن گئی جتنی کہ دیکھی جانے والی چیز۔ انسان یہ ماننے پر مجبور ہو گیا کہ بالواسطہ استدلال یا استنباطی استدلال (inferential argument) بھی علمی طور پر اتنا ہی معقول (valid) ہے جتنا کہ براہِ راست استدلال (direct argument)۔ علم میں اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں الہیاتی استدلال کو عین سائنٹفک استدلال بنا دیا ہے۔ مثلاً خدا کے وجود پر علمائے الہیات کا سب سے بڑا استدلال وہ ہے جس کو فلسفہ نظم سے استدلال (argument from design) کہتے ہیں۔ یہ استدلال انیسویں صدی کے پرجوش علماء نے نہیں مانا۔ انھوں نے کہا کہ یہ استنباطی استدلال ہے اور استنباطی استدلال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page