عقلیات اسلام
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
علمی طور پر معقول نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس اعتراض کی بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ آج کا انسان مجبور ہے کہ وہ نظم کائنات سے ناظم کائنات پر استدلال کو اتنا ہی علمی اور معقول مانے جتنا کہ وہ مشین کے پہیہ کی حرکت سے (flow of electron) کے نظریہ کو معقول سمجھتا ہے۔ قدیم یونان کے فلسفیوں نے دنیا کے بارے میں بہت سے مفروضات قائم کیے تھے جو بعد کی تحقیق سے غلط ثابت ہو گئے۔ مثال کے طور پر یہ نظریہ کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ مگر مذہب کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ مذہب کے جو حقیقی عقائد ہیں وہ بعد کی تحقیق سے مزید ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو مذہب کی صداقت کو تجرباتی سطح پر مدلل کر رہا ہے۔ مذہبی عقائد اگر بے بنیاد ہوتے تو بعد کی علمی تحقیقات ان کی تردید کرتےیں نہ کہ تصدیق۔ اس واضح شہادت کے بعد جو لوگ مذہب کی صداقت کو نہ مانیں ان کا کیس ہٹ دھرمی کا کیس ہے نہ کہ علم اور معقولیت کا کیس۔ مذہب انسانی تخلیق نہیں مذہب کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے موجودہ زمانہ میں جو کوششیں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک کوشش وہ ہے جس کا تعلق علم الانسان (anthropology) سے ہے۔ علم الانسان، انسانی معاشرہ کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس فن کے ماہرین نے یہ دعویٰ کیا کہ قدیم انسانی معاشروں کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہب سماجی حالات کی پیدا وار ہے۔ قدیم انسانی معاشروں میں جو مختلف حالات تھے، انھیں کے تحت مختلف مذہبی معتقدات وجود میں آتے رہے، بالفاظ دیگر مذہب آسمان سے نازل شدہ کوئی ابدی صداقت نہیں، وہ انسان کے خود اپنے حالات کی پیدا وار ہے جو کہ زمانہ کے ساتھ بنتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ مگر بعد کو خود علم الانسان کی تحقیقات نے اس مفروضہ کو باطل ثابت کر دیا۔ یہاں اس سلسلے میں جدید تحقیقات کا ایک خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader