Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

یونانی مصنف ایو میرس (Euhemerus) نے کہا تھا کہ دیوتا ابتدا میں زمین کے بڑے بڑے بادشاہ تھے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ خدا بن گئے اور ان کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو اس عقیدہ کو بتانے کے لیے ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو اسی نام پر ایو میرزم (euhemerism) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیوتا کسی زمانہ میں انسانی ہیرو تھے۔ یونانی مصنف کا یہ نظریہ محض قیاس پر مبنی تھا۔ اس نے اس واقعہ پر زیادہ دھیان نہیں دیا کہ چین اور افریقہ اور دوسرے بعض مقامات پر جہاں آبا و اجداد کی پرستش کی مثالیں ملتی ہیں وہاں ان کی پرستش خدا کی پرستش سے الگ دوسرے طریقے سے کی جاتی ہے۔ قدیم زمانہ میں اس قسم کی باتیں محض تفنن پسند لوگ کیا کرتے تھے۔ تاہم ایک سو سال پہلے بہت بڑے پیمانہ پر اس سوال کے جواب کی تلاش شروع ہوئی کہ مذہب کی ابتدائی شکل کیا تھی۔ مگر تحقیق و تلاش کے لمبے سفر کے بعد آدمی دوبارہ وہیں پہنچ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ مذہبی معتقدات اتنے ہی پرانے ہیں جتنی کہ انسانی تاریخ پرانی ہے۔ ایک لاکھ برس پہلے نیندر تھل انسان (Neanderthal Man) کو جب مرنے کے بعد دفن کیا گیا تو اس کے ساتھ قبر میں کھانا بھی رکھ دیا گیا تا کہ دوسری دنیا کے سفر میں اس کے لیے زادِ راہ کا کام دے سکے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انتہائی ”ابتدائی انسان‘‘ بھی مرنے کے بعد زندگی کے تسلسل کا عقیدہ رکھتا تھا۔ ”مذہب کیسے شروع ہوا‘‘ یہ سوال باقاعدہ طور پر صرف ایک سو سال پہلے وجود میں آیا۔ اس سے پہلے بائبل کی کتاب پیدائش اور قرآن کے زیر اثر عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ پہلا انسان ( آدم ) جب پیدا کیا گیا تو اسی وقت خدا کا الہام بھی اس کو مل گیا جس میں اس کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ سچا مذہب خدا کے نزدیک کیا ہے۔ مذاہب کے علماء عام طور پر یقین کرتے تھے کہ اس ابتدائی مذہب میں بعد کی نسلوں نے پہلی بار بگاڑ پیدا کیا اور اس طرح مذہب کی مختلف شکلیں بنتی چلی گئیں۔ 19 ویں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page