Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

صدی میں خاص طور پر نظریہ ارتقاء نے، تعلیم یافتہ طبقہ کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ مذہب کا ارتقائی مطالعہ کرے اور اس کی ابتدائی شکلیں دریافت کرے۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ ارتقا کا اصول ہر معاملہ میں اسی طرح جاری ہے جیسا کہ ڈارون نے حیاتیات میں دکھایا ہے۔ ابتدائی مذہب (primitive religion) اور ترقی یافتہ مذہب (higher religion) کی اصطلاحیں پیدا ہوئیں۔ اس تلاش نے بہت جلد انسان کو اس دریافت تک پہنچا دیا کہ مذہب کی ابتداء محض کچھ وہی خیالات (illusions) سے شروع ہوئی۔ دھیرے دھیرے اصلاح ہوتے ہوتے وہ مذہب کی موجودہ ترقی یافتہ شکلوں تک پہنچی۔ اس طرح گویا علمی تجزیہ نے ثابت کر دیا کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی یا سماجی وہم کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر مذہب کے محققین کا یہ یقین دیر تک باقی نہ رہ سکا۔ تحقیق کے بعد نتائج نے اس کے ابتدائی نتائج کی تردید کر دی۔ ایڈورڈ بی ٹیلر نے 1871ء میں مذہب کے بارے میں اپنے نظریہ کی وضاحت کے لیے روحیات مظاہر (animism) کی اصطلاح وضع کی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابتدائی انسان نے خواب، ہذیان اور موت کے واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ اس کے اندر کوئی غیر فانی روح ہے۔ جب کوئی مرا ہوا شخص خواب میں نظر آیا تو سمجھ لیا گیا کہ انسان کی روح مرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، انھیں میں سے کچھ روحیں دھیرے دھیرے دیوتا بھی بن گئیں۔ اسی زمانہ میں ہر برٹ اسپنسر نے یہ خیال بھی پیش کیا کہ مرے ہوئے لوگ جو بھوتوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے، ان کو دیوتا سمجھ لیا گیا اور ان کی پوجا ہونے لگی۔ مگر ٹیلر اور اسپنسر وغیرہ کے نظریات کا جب بعد کے محققین نے تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ لوگ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ دور تاریخ سے قبل کا انسان اسی ڈھنگ پر سوچتا تھا اور روحوں اور بھوتوں سے خدا تک پہنچنا محض قیاس پر مبنی تھا۔ اس نظریہ کے حامی اس سوال کا جواب بھی نہ دے سکے کہ اگر مردہ انسانوں کی روح سے خدا کا تصور نکلا تو یہ عالمی کیسے بن گیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page