Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ قدیم زمانہ میں کرۂ ارض پر پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے درمیان قطعاً کوئی مواصلاتی سلسلہ موجود نہ تھا۔ چنانچہ روحیت مظاہر (animism) کا یہ نظریہ مذہب کی علمی توجیہہ کی حیثیت سے آج عملاً رد کر دیا گیا ہے۔ روحیت مظاہر کا ایک اور نظریہ آر آر میریٹ نے 1899ء میں پیش کیا۔ اس نے کہا کہ انسان اولاً شخصی روح (Personal soul) کو نہیں مانتا بلکہ غیر شخصی طاقت (impersonal force) کا عقیدہ رکھتا تھا جس نے دنیا کو زندگی عطا کی ہے۔ اس نے اپنے اس نظریہ کو اینیٹرم (antimatism) کا نام دیا۔ مگر بعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ محض ایک لفظی مغالطہ سے اس نے یہ نظریہ قائم کر لیا تھا۔ بحر الکاہل کے کنارے رہنے والے بعض قبائل جن کو میلا لیسین (Melanesian) کہا جاتا ہے۔ ان کی زبان میں ایک لفظ منا (mana) ہے۔ میریٹ نے سمجھا کہ قبیلہ کے لوگ اس کو روحانی طاقت کے معنی میں بولتے ہیں اور غیر شخصی طاقت کا یہی عقیدہ مذہب کی بنیاد ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قدیم انسان ”تھنکر“ نہ تھا بلکہ ایکٹر تھا۔ اس طرح اس کا مذہب جادو سے بہت کم مختلف تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ قبائل ”منا“ کا لفظ غیر شخصی طاقت کے معنی میں نہیں بولتے تھے جس نے کائنات کو زندگی عطا کی ہو ۔ جیسا کہ میریٹ اور دوسرے لوگوں نے سمجھ لیا تھا ، بلکہ امتیازی روحانی صفت کے معنی میں بولتے تھے۔ 1890ء میں جیمز فریزر نے کتابوں کا ایک سلسلہ شائع کرنا شروع کیا جن میں سب سے زیادہ خاص سنہری شاخ (The Golden Bough) تھی۔ اس نے اپنی کتاب کا آغاز ایک ”مقدس درخت“ کی کہانی سے کیا جو قدیم اٹلی کے ایک مقام ارسیا پر ایک شخص نے لگا رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس درخت میں کوئی روحانی طاقت ہے اور اس کی مدد سے جادو کے کرشمے دکھائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو لے کر فریزر نے ایک نظریہ وضع کیا، جو یہ تھا— جادو پھر مذہب پھر سائنس:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page