Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے کہا کہ جادو کے طریقے میں جب پہلی بار ناکامی ہوئی تو انسان نے سمجھا کہ کوئی مافوقِ فطرت ہستی ہے جو اس کی مدد کر کے کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس طرح جادو نے مذہب کی صورت اختیار کر لی۔ پھر انسان منطقی اور تجرباتی طریقہ تک پہنچا جس کو سائنس کہا جاتا ہے۔ اپنی ارتقائی کشش کی وجہ سے یہ نظریہ شروع میں بہت مقبول ہوا۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس مفروضہ کے لیے کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ جادو پہلے تھا اور مذہب اس کے بعد وجود میں آیا۔ کلچر کے ہر مرحلہ میں تاریخی دستاویزوں کے مطابق، مذہب اور جادو دونوں ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ اس لیے یہ نظریہ کہ ”جادو پھر مذہب پھر سائنس“، ”غیر تاریخی (unhistorical) ہےـ 1922ء میں لوسین لیوی بروہل نے ابتدائی ذہن (primitive mentality) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نے کہا کہ دورِ قدیم کے وحشی انسان ایک ابتدائی منطقی فکر (pre-logical thinking) استعمال کرتے تھے جو کہ ہماری موجودہ فکر سے مختلف تھا۔ اس نے اس نظریہ پر تنقید کی کہ تمام انسان یکساں صلاحیت کے تھے جو کہ ہماری موجودہ فکر سے مختلف تھا۔ اس نے اس نظریہ پر تنقید کی کہ تمام انسان یکساں صلاحیت کے تھے۔ اس نے مثال دی کہ تمام ”غیر ترقی یافتہ“ قو میں موت کی توجیہ فطری اسباب کے سوا دوسرے اسباب سے کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک آدمی سادہ طور پر محض بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرتا بلکہ کوئی پراسرار طاقت ہے جو اس کو مارتی ہے۔ مگر پچھلے سو برس کے دوسرے شارحینِ مذہب کی طرح لیوی بروہل بھی محض کرسی نشین مفکر تھا جس کو موجودہ زمانہ کے ”ابتدائی انسان“ کی خبر نہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھا کہ قدیم انسان کس طرح سوچتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی دور کا انسان بخوبی جانتا تھا کہ موت کس طرح طبعی اسباب کے تحت ہوتی ہے، اگر چہ اس کے ساتھ وہ ایک روحانی توجیہ کو بھی اس میں شامل کرتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page