Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ آندھرا پردیش کی ترو کلا پہاڑیوں میں واقع وینکٹیشور کے مندر میں اس کے عقیدت مندوں کی طرف سے حاصل ہونے والی رقم میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ۱۹۳۰ء میں اس مندر میں ایک سال کے اندر ۰ لاکھ روپے وصول ہوئے۔ مئی ۱۹۹۲ء میں صرف ایک گم نام عقیدت مند نے ۷۲ لاکھ روپے لا کر مندر کے بکس میں ڈال دئے۔ زائرین کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ۱۹۹۱ میں صرف ایک دن میں پچاس ہزار آدمیوں نے اگر مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکاہیں۔ یہاں آنے والے زائرین جو بال کتراتے ہیں وہ خود اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ۹۲-۱۹۹۱ کے درمیان جمع ہونے والے بال کی مقدار دو لاکھ کلو گرام سے زیادہ تھی۔ اور ان کو بیچ کر مندر کے ٹرسٹ کو ۱۸ ملین روپیہ حاصل ہوا۔ ریلوے کی طرف سے ۳۷ کنکٹنگ ٹرینیں تروپتی کے لئے چلائی گئی ہیں۔ اور اب مندر میں آنے والوں کا اوسط روزانہ ۶۰ سے ۷۰ ہزار تک ہوتا ہے۔ یہ تمام تر برکتی مذہب کا کرشمہ ہے جو ہر مذہب میں اور ہر مقام پر جاری ہے، اور اسی طرح خود مسلمانوں میں بھی۔ ہر مذہب ہی بھیٹر برکتی مذہب کی بھیڑ ہوتی ہے۔ ہماری پارٹی کے ایک فرد جسٹس چندر شیکھر دھر مادھیکاری (ریٹائرڈ) بھی تھے۔ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں یہ واقعہ بتایا کہ آزادی سے پہلے ۱۹۲۰ء کے لگ بھگ زمانہ کا واقعہ ہے۔ لاہور کے ایک جلسہ میں ایک مسلمان بیرسٹر مسٹر عالم تقریر کر رہے تھے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ بیرسٹر صاحب، آپ پہلے مسلمان ہیں یا پہلے ہندوستانی ہیں۔ بیرسٹر صاحب نے جواب دیا کہ میرے بھائی آپ نے سوال صحیح نہیں کیا۔ آپ کو ابھی سوال کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہئے۔ یہ سوال تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ پہلے اپنی ماں کے ہو یا پہلے اپنے باپ کے ہو۔ انھوں نے کہا کہ آدمی بیک وقت اپنے باپ کا بھی ہوتا ہے اور اپنی ماں کا بھی۔ اسی طرح میں بیک وقت مسلمان بھی ہوں اور اسی وقت ہندوستانی بھی۔ جسٹس چندر شیکھر نے یہ تقریر ۲۱ دسمبر کو ناگپور میں اہنسا بھون کے جلسہ میں کی۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ اس سوال کا سب سے زیادہ فطری جواب یہی ہے۔ ہمارے بعض لیڈروں کا یہ کہنا کہ " میں پہلے مسلمان ہوں اور اس کے بعد ہندوستانی ہوں" بلا شبہ ایک لغوبات ہے۔ اس کا تعلق نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page