Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے پوچھا کہ الرسالة مشن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالة مشن احیا دین کا مشن ہے۔ الرسالة کا مشن امت کو قرآن وسنت کی طرف بلانا ہے۔ الرسالة کا مشن وہی ہے جو ہر دور میں مصلحین امت کا مشن رہا ہے۔ ایک مشہور دینی حلقہ کی طرف سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کے ٹائٹل کے صفحہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے : شعارنا التوحيد الى الاسلام من جديد ۔ ایک اور بڑے دینی حلقہ کی طرف دوسرا عربی ماہنامہ شائع ہوتا ہے۔ اس کے پہلے صفحہ پر یہ فقرہ درج ہوتا ہے ؀ دعوتنا : عودة بالامة الى الكتاب والسنة۔ تمام دینی حلقے اور تمام اسلامی جماعتیں اس قسم کے الفاظ میں اپنا مقصد ظاہر کرتی ہیں۔ الرسالة مشن کے سامنے بھی عین یہی نشانہ ہے۔ ہمارے اور دوسروں کے درمیان جو فرق ہے وہ اصول کا نہیں طریقہ کا ہے۔ اہل سنت والجماعت کے یہاں جو دین مسلم ہے وہی ہمارا دین بھی ہے۔ البتہ اس کو پیش کرنے کے لئے ہم نے عصری اسلوب اختیار کیا ہے۔ ۶ دسمبر کے بعد ہونے والے بمبئی کے فساد میں دوسو آدمی ہلاک ہو گئے۔ یہ سب کے سب سلّم علاقے میں رہنے والے لوگ تھے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بمبئی کے سلّم علاقوں میں فساد ہوا ، مگر یہاں کی کالونیوں میں فساد نہیں ہوا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک سادہ سی مثال سے آپ اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہ مکان جس میں آپ ٹھہرے ہوئے ہیں ، اس میں ہر کمرہ کے ساتھ الگ الگ ٹائلیٹ موجود ہے، لیکن اگر آپ سلم علاقہ میں جائیں تو آپ پائیں گے کہ وہاں ایک سو آدمی پر ایک ٹائلیٹ کا وسطہ ہے۔ ہر ٹائلیٹ پر آدمیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے۔ فساد کی سب سے بڑی وجہ اسی قسم کی بھیڑ ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے۔ اگر لوگوں میں تعلیم بڑھ جائے اور لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہو جائے تو اس قسم کے لڑائی جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ یہ پور اسفر اتنے بندھے ہوئے پروگرام کے تحت ہوتا کہ مشکل سے کہیں اس کا موقع ملا کہ کسی جگہ ٹھہر کر اخبار پڑھا جائے۔ چنانچہ اخبارات زیادہ تر سفر کے دوران گاڑی میں پڑھے گئے۔ بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا (۲۲ دسمبر ۱۹۹۲) میں صفحہ ۸ کی ایک خبر کی سرخی یہ تھی : Tirupati temple's income on the rise

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page