شانتی یاترا
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ تعرف الاشیاء باضدادھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقابل کے ذریعہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ آپ یوں دیکھئے کہ ۶ دسمبر کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ مگر مسلمانوں نے مقابلے بہت ہی کم ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ پھر ایک بابری مسجد کے انتقام میں پاکستان میں ۴۰ مندر ڈھائے گئے۔ گویا ایک کے بدلے میں ساتھ۔ اس تناسب سے انڈیا کے ہندوؤں کو ۳۶۰۰ مسجدیں گرانا چاہئے تھا۔ پاکستانیوں نے بلڈوزر کے ذریعہ مندروں کو گرایا تو انڈیا میں ڈائنامائٹ کے ذریعہ مسجدوں کو ڈھانا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تقابل میں امید کا پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کے لوگوں کا جذباتی ابال ایک حد کے اندر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی طرح تناسب سے متجاوز نہیں ہو جاتا۔ یہ برداشت کی علامت ہے، اور یہ برداشت بلاشبہ سب سے بڑی چیز ہے۔ ۲۳ دسمبر کا دن بمبئی میں گذرا۔ کئی لوگوں سے ملاقات اور گفتگُو ہوئی۔ کچھ اخبارات پڑھے۔ ایک قابلِ ذکر ملاقات مسٹر راجندرسد رشن جین (۷۳ سال) سے تھی۔ ۹ سال کی عمر میں ہولی کے پٹاخے نے ان کی ایک آنکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس کا آپریشن کرایا تو سرجن کی غلطی سے دونوں آنکھ جاتی رہی۔ اب وہ مکمل طور پر نابینا ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ بے تکلفی کے ساتھ اسی طرح ٹیلیفون نمبر ملا رہے ہیں جیسے کوئی آنکھوں والا ٹیلی فون نمبر ڈائل کرتا ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ ان کا ایک بڑا بزنس ہے۔ پورا بزنس وہ خود کنٹرول کرتے ہیں، حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں تجارتی سفر کرتے ہیں اور بڑے بڑے تجارتی معاملات طے کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے اندر وہ چیز ہے جس کو چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ چھٹی سنس کوئی مسٹریس چیز نہیں۔ جب آپ کے اندر سے کوئی سنس چلا جاتا ہے تو نچر اس کی تلافی کرتی ہے اور آپ کے اندر اپنے آپ ایک اور نس پیدا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے دیکھے بغیر ہر چیز کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور وہ اکثر درست ہوتا ہے۔ "تلافی" کا یہ اصول قدرت کے پورے نظام میں ہے۔ جب بھی آپ کوئی چیز کھوئیں تو پیشگی طور پر یقین کر لیجئے کہ کھونے کے ساتھ وہیں ایسے اسباب پیدا ہو چکے ہوں گے جو آپ کی محرومی کی تلافی کرسکیں۔ ہر محرومی اپنے ساتھ یا فت کا سامان لئے ہوئے ہے۔ سوامی چید اندرشی کیش کے سب سے بڑے آشرم کے چیئرمین ہیں۔ ان کا مشن یورپ، امریکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader