شانتی یاترا
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
آسٹریلیا، ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ وہ سال بھر عالمی سفر پر رہتے ہیں۔ واپسی کے بعد رشی کیش سے سوامی جی کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہندو دھرم اور جین دھرم پر کتابیں تیار کر رہے ہیں۔ ان کے نام Hinduism and daily life اور ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہیں اسلام کے موضوع Jainism and daily life پر ایک کتاب لکھ کر دیں۔ جو Islam and daily life کے موضوع پر ہو۔ یہ کتاب تقریباً تین سو صفحہ تک ہو سکتی ہے۔ ہم ان کتابوں کو دنیا کی دس زبانوں میں چھاپ کر سارے ملکوں میں پھیلائیں گے۔ شانتی یا ترا میں جب میں نکلا تو شروع میں میں نے اسلام کا نام لئے بغیر اخلاقیات کی زبان میں تقریر کی۔ مگر اسی دوران نجی مجلسوں میں اکثر میں قرآن و حدیث کی باتیں لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔ سوامی چید اند نے ایک دو تقریر سننے کے بعد کہا : مولانا صاحب، آپ ہم لوگوں کو قرآن و حدیث کی جو باتیں بتاتے ہیں وہی آپ جلسہ میں بھی کہئے۔ وہ ہم کو بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد کی تقریروں میں قرآن و سنت کے حوالے سے میں اپنی بات کہنے لگا۔ شانتی یا تراہ اسے پہلے نہ میں سوامی چیداند کو جانتا تھا اور نہ وہ مجھ کو ۔ دونوں ایک دوسرے کے نام سے بھی واقف نہ تھے۔ مگر دو ہفتہ کے ساتھ کا یہ نتیجہ ہوا کہ اب وہ رسالہ کے قاری بن گئے ہیں۔ اور وہ مجھ سے اسلام کے موضوع پر تین سو صفحہ کی کتاب لکھوانا چاہتے ہیں تاکہ اس کو چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلائیں ۔ دوری غلط نہی پیدا کرتی ہے۔ اور قربت غلط نہی کو ختم کرکے دو اجنبیوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتی ہے۔ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ کی رات کو بمبئی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ انڈین ایرلائنز کا جہاز کئی گھنٹہ لیٹ ہو کر بمبئی سے روانہ ہوا۔ ایک ہم سفر نے کہا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ پرائیویٹ کمپنیوں کے جہاز سے سفر کریں گے اور سرکاری انڈین ایرلائنز کو مسافر ملنا مشکل ہو جائے گا۔ آلایہ کہ دوبارہ قانون کا سہارا لے کر لوگوں کو صرف سرکاری جہازوں میں سفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ آج میں اپنے امن مشن کا پہلا دور ختم کرکے دہلی واپس جا رہا تھا۔ میں نے سوچا کیا اس مشن میں مجھے کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے امریکہ کے فادر ڈیوائن (۱۹۶۵۔ ۱۸۷۷) کی یاد آئی ۔ انھوں نے امریکہ میں اسی قسم کا ایک مشن شروع کیا تھا جس کو امن مشن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader