شانتی یاترا
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
(Peace Mission) کہا جاتا ہے ۔ اس مشن میں انھیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس کامیابی کا راز کیا تھا ، مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا راز اہل شاگردوں کی جاں نشاری (devotion of competent disciples) تھا۔ ان کو ایسے لائق شاگرد مل گئے تھے جو اس مشن میں اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ ایسے ہی افراد کسی مشن کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مجھے ایسے ساتھی مہیا فرمائے۔ اگرچہ ہماری قوم میں آج سب سے زیادہ جو چیز نایاب ہے وہ بلا شبہ یہی ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد ایک صاحب نے پوچھا کہ بشارتی یا ترحیبی کام کی کیا کوئی شرعی بنیاد بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ اسی قسم کا ایک کام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حلف الفضول کی صورت میں ملتا ہے۔ آپ کی بعثت سے قبل مکہ کے کچھ معزز افراد نے مل کر ایک انجمن بنائی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سماجی بگاڑ کو روکا جائے، مظلوم کی فریاد رسی کی جائے۔ یہ اگر چہ بعثت نبوی سے قبل کا واقعہ ہے۔ مگر بعثت کے بعد آپ نے یہ فرما کر اس کی تصدیق کر دی کہ اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کر لوں گا (لو دعيت اليه في الاسلام لأجبت) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی انصاف اور مشترک اجتماعی مصالح کے تحفظ کی خاطر کثیر جماعتی تعاون کا طریقہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ ایسے مشترک پروگرام میں شرکت کرنا ایک ایسا دینی تقاضا ہے جس کی اہمیت خود سنت نبوی کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader