Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

جے پرکاش نرائن ایک شریف انسان تھے نہ کہ مفکر انسان۔ ورندابن پہنچ کر ہم گیت آشر م گئے۔ یہیں پر قیام اور اجلاس دونوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ آشرام میں داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ اجلاس جاری ہے۔ چنانچہ ہم لوگ سیدھے آشرام کے ہال میں پہنچے اور اجلاس میں شریک ہوگئے۔ اس ہال تک پہنچنے کے لئے جامع مسجد دہلی کی طرح اونچی سنگ مرمر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس آشرام میں ایک ہاسٹل ہے جس میں سنسکرت کے طلبہ کے لئے قیام کا انتظام ہے یہ طلبہ شہر کے سنسکرت کالج میں پڑھتے ہیں اور ان کے لئے قیام و طعام کا انتظام آشرام کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ یہ برہمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ تقریباً ۲۰ کی تعداد میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ نوجوان طلبہ ہر روز صبح سویرے ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوتے ہیں اور گیتا کا पाठ کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ہمارے یہاں تجوید کے مدارس میں ہوتا ہے۔ ایک پنڈت سامنے بیٹھ کر گیتا کے سنسکرت استلوک اصول قرآت کے مطابق پڑھتا اور بقیہ تمام طلبہ اس کو دہراتے تھے۔ اس عمل کے خاتمہ پر سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے تھے۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں۔ پاٹھ گیتا کا سدا کرنا بڑا است دھرم ہے پاٹھ گیتا کا سدا کرنا ہی مانودھرم ہے گیان گیتا کا سدا ہر دے میں دھر نا چاہئے منش کو ہر روز گیتا پاٹھ کرنا چاہئے میں نے پنڈت جی سے پو چھا کہ پورے دیش میں گیتا کے کتنے لاکھ حافظ ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ لاکھ تو نہیں ، شاید کچھ ہزار ہوں ۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کو تو پوری گیتا یاد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں کچھ کچھ ۔ وہاں ۲۰ طالب علم تھے ۔ سب کے سب معمولی گھروں کے دکھائی دئے ۔ تاہم آشرام کی عمارت کافی شاندار اور وسیع تھی ۔ یہاں آگرہ کا ہندی اخبار دیناک جاگرن (۱۵ جنوری ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے پہلے صفحہ کی کچھ سرخیاں یہ تھیں: بمبئی میں دنگائیوں نے 8 لوگوں کو زندہ پھونکا احمد آباد میں چھری بازی کی چٹ پٹ وارداتیں ۔ مسجد ڈھانا بھاجپا کی سوچی سمجھی سازش (ار جن سنگھ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page