ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم دھرما مک نیتائؤں کا آندولن اور تیز اجو دھیا کی طرح ہی ہم دلی کی جامع مسجد پر قبضہ کریں گے ۱۵ اگست کو ہمیں سیاسی آزادی ملی ۶ دسمبر کو ہمیں مذہبی آزادی ملی۔ بعض سرخیوں کو اشتعال انگیز سمجھ کر کوئی مسلمان غصہ ہو سکتا ہے۔ مگر میں نے ان سرخیوں کو پڑھ کر سوچا کہ اردو آج بھی ہندی لپی کے روپ میں زندہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم بول چال کی زبان آج بھی اس ملک میں اردو ہے ۔ یہ بہت زیادہ قابل شکریہ بات ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور برادران وطن کے درمیان آج بھی لسانی بعد (Language gap) نہیں پیدا ہوا۔ ۱۵ جنوری کو میں دوپہر کا کھانا کھا کر اٹھا۔ باہر برآمدہ میں گیت آشرم کے دو طالب علم کھڑے ہوئے لوگوں کا ہاتھ دھلار ہے تھے۔ ایک طالب علم تولیہ لئے ہوئے کھڑا تھا اور دوسرا طالب علم مگ کے ذریعہ پانی ڈال رہا تھا۔ میں وہاں پہنچا تو سیمنار میں شرکت کرنے والے ایک صاحب جو سوٹ بوٹ میں تھے ، وہ ان طالب علموں سے بات کر رہے تھے۔ میں آگے بڑھ کر ہاتھ دھونے لگا۔ اس دوران گفت گو کی آواز کان میں آئی۔ مذکورہ صاحب نے طالب علموں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیا پڑھتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ ہم سنسکرت پڑھتے ہیں۔ موصوف نے لاپرواہی کے انداز میں کہا: سنسکرت پڑھنے سے کچھ نہیں بنے گا۔ سائنس پڑھو، کچھ اور پڑھو۔ جیون برباد مت کرو۔ یہ ریمارک دینے والے صاحب ایک مسلم نوجوان تھے۔ اس کے بعد اسی دن شام کو ان طالب علموں کے استاد نے اپنے کمرہ میں ہم چند لوگوں کو چائے پر بلایا۔ یہ نہایت صاف ستھرا دو کمروں کا ایک سیٹ تھا جس میں ٹیلی فون اور دوسری چیزیں موجود تھیں۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج کے ایک "پنڈت" کے لئے کیا مواقع کھل چکے ہیں۔ وہ پرانے زمانہ کے روایتی پنڈت پر آج کے زمانہ کے جدید پنڈت کو قیاس کر رہے ہیں۔ ۱۵ جنوری کی صبح کو اچانک شور و غل سنائی دیا۔ میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا تو آشرم کے نوجوان طلبہ اپنے ہاتھوں میں ڈنڈا لئے دوڑ رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ آشرم میں کچھ بندر گھس آئے ہیں، ان کو بھگایا جا رہا ہے ، کیوں کہ وہ جب آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ نقصان کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader