Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ بندر ان لوگوں کے نزدیک ایک مقدس جانور ہے۔ مگر جب یہ مقدس جانور ان کے انٹرسٹ کے لئے خطرہ بن جائے تو وہ اس کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب خود اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مقدس حیوان کے ساتھ ان کا یہ سلوک ہے تو عام انسانوں کے ساتھ ان کا سلوک کیوں کر مختلف ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص کا یہی معاملہ ہے۔ وہ کسی کو صرف اس وقت تک قابل احترام سمجھتا ہے جب تک وہ اس کے لئے بے ضرر حیثیت رکھتا ہو۔ جیسے ہی وہ ضرر رسار دکھائی دے، آدمی اس کا مخالف بن جائے گا۔ اب اس کے پاس ایسے آدمی کے لئے ڈنڈا ہوگا نہ کہ پھول۔ سیمنار کے شرکاء کے لئے قیام کا انتظام گیتا آشرم میں کیا گیا تھا۔ ایک کمرہ میں دو آدمی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ میرے ساتھ آرایس ایس کے ایک خاص رکن تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور آرایس ایس کے انٹلیکچول میں شمار کئے جاتے تھے۔ کمرہ میں ایک ڈبل بیڈ تھا۔ اس پر ہم دونوں ایک ساتھ سوتے تھے۔ وہ صبح کو فجر سے پہلے اٹھ جاتے تھے۔ میں بھی اسی وقت اٹھتا تھا۔ ایک روز جب وہ سو کر اٹھے تو بستر پر بیٹھے بیٹھے میں نے ان سے ایک سوال کیا۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ لوگ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں۔ مسلمان کیا کریں کہ آپ لوگوں کی شکایت ان سے ختم ہو جائے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں یک طرفہ طور پر ہندوؤں سے ایڈجسٹ کرکے رہیں۔ انھوں نے فوراً کہا: ’’نہیں مولانا صاحب ، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ مسلمان برابر کے ناگرک بن کر رہیں۔ مسلمان بھائیوں سے ہم صرف ایک بات چاہتے ہیں۔ یہ کہ وہ اس دیش کو اپنا دیش سمجھیں۔‘‘ یہ ایک ایسے شخص کے الفاظ تھے جو آرایس ایس میں عہدیدار کی حیثیت رکھتا ہے ’’ورندابن‘‘ کو آپ پرانی کتابوں میں پڑھیں تو وہ ایک افسانوی مقام معلوم ہوگا۔ مگر ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کو ۱۰ بجے جب میں ورندابن کے اندر داخل ہوا تو وہ ایک عام قصبہ کی مانند تھا۔ آج وہاں ایسی چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو مت قدیم کتابوں میں لکھی ہوئی ملتی ہیں۔ یہاں ’’سنواد پریاس‘‘ گیتا آشرم میں رکھا گیا تھا۔ گیتا آشرم کافی بڑا ہے۔ پہلے وہ قدیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page