Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

طرز کا ایک مندرہوگا مگر اب یہاں خالص جدید طرز کی ایک شاندار عمارت بنائی گئی ہے۔ وہاں گینتا کی تعلیم کا انتظام ہے۔ اور اسی کے ساتھ کئی ہال ہیں۔ ایک ہال میں ہمارے کانفرنس کی کارروائی ہوئی۔ اس مضمون میں وہاں کی تمام کارروائیوں کا ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ باتوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ ملکی حالات پر یہ سیمنار چار دن تک جاری رہا۔ ہر ایک نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک روز میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو راشٹر عالم حالات میں ہندوستان میں قائم نہیں ہو سکتا۔ آرایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ محض اپنی طاقت سے اس ملک میں ہندو راشٹر قائم کر دیں۔ ہندوستان میں ہندو راشٹر کا قیام تمام مسلمانوں کے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر مسلمان خاموشی کا رویہ اختیار کر لیں ۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا آر ایس ایس کی مخالفت نہ کریں تو ہندو راشٹر کے قیام کی تحریک کی ناکامی یقینی ہے۔ ہندو راشٹر صرف اس وقت قائم ہو سکے گا جب کہ اس کے علمبرداروں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہو جائے کہ مسلمان اپنے نادان لیڈروں کی غلط رہنمائی میں پڑ کر اس کے خلاف دھوم مچانا شروع کر دیں۔ ورندابن کے اس سیمنار میں مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ ہندوؤں میں بھی ایک اعتبار سے وہی صورت حال ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں آج جو لوگ مختلف سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں کام کر رہے ہیں، ان کی اکثریت انقلابی اسلام سے متاثر نظر آتی ہے۔ اس کا سبب بہت زیادہ نظریاتی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اسکول یا کالج کی تعلیم کے زمانہ میں ان لوگوں نے ان اسلامی مفکرین کی پر جوش کتابیں پڑھیں جن میں اسلام کو انقلابی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ پختگی سے پہلے کی اس عمر میں انھیں اسلام کی یہ تشریح اچھی لگی۔ اس کا اثر آج تک باقی ہے۔ عملاً ان میں سے ہر ایک کا مذہب مادی انٹرسٹ ہے۔ مگر ٹیبل ٹاک کے لئے وہ اپنے سابقہ تاثر کے تحت بدستور اسلام کی انقلابی تشریح کو اختیار کئے ہوئے ہے۔ یہی معاملہ ہندوؤں کا ہے۔ آرایس ایس اور اس طرح کی دوسری تحریکوں نے ”ہندو انڈیا“ کا جو رومانی تصور دیا وہ بہت سے ہندو نوجوانوں کو پسند آگیا۔ بعد کو اگرچہ وہ عام لوگوں کی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page