ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کے کمانے میں مشغول ہو گئے۔ تاہم ایک دل پسند تاثر کے طور پر ہند و احیاء کا آئیڈیا بھی ان کے ذہن میں موجود رہا جو لکھنے اور بولنے کی سطح پر حسب موقع ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ بس اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ انہی میں سے ایک مسٹر ارن شوری ہیں۔ اس سیمنار کے شرکا میں اگر چہ اکثریت آر ایس ایس کے ذہن کے لوگوں کی تھی۔ تاہم یہاں فکری غلبہ کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ ہر ایک کو آزادی تھی کہ وہ کھلے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرے، مقررین کی کچھ باتیں یہاں مختصر طور پر نقل کی جاتی ہیں۔ سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں میں (fixed notions) بنے ہوئے ہیں۔ لوگ پہلے ہی سے یہ مانے ہوئے رہتے ہیں کہ مسلمان ہے تو ایسا ہو گا اور ہندو ہے تو ایسا ہوگا۔ ہمیں سوچنے کا یہ طریقہ بدلنا ہو گا۔ ورنہ نیشن بلڈنگ کا کام نہیں ہو سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کے حالات اگرچہ بہت خراب ہیں، مگر حالات کا کچھ پا ر بیٹھو پہلو بھی ہے۔ مثلاً بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو میں دیکھتا ہوں کہ اس کی چنتا جتنی مسلمان کو ہے اس سے زیادہ چنتا ہندوؤں کو ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آج یہ حالت ہے کہ دیش کا ایجنڈا پولیٹیکل لوگ طے کرتے ہیں۔ یہ ایک درسا گیہ کی بات ہے۔ دیش کو کچھ لوگوں کے پولیٹیکل انٹرسٹ پر کھیپنٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کو الٹے راستہ پر لے جایا جا رہا ہے۔ نان اشو کو اشو بنایا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف ہمیں اٹھنا ہوگا ورنہ دیش تباہ ہو جائے گا۔ ایک ہندو نوجوان نے کہا کہ مسلمان آج بھی پاکستان کی طرف اپنا دھیان لگائے ہوئے ہیں ۔ اسی لئے جب کرکٹ میں پاکستان کے کھلاڑی جیتے ہیں تو وہ یہاں خوشی مناتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے راج موہن گاندھی نے کہا کہ ان چیزوں کو آپ اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ یہ تو خود آپ کی ذہنی نا پختگی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں لندن میں ہائی کمشنر تھا۔ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ میچ میں اگر ہندوستانی کھلاڑی اچھا گیند مارتا تو وہاں کے ہندوستانی تالیاں بجاتے اور اگر پاکستانی کھلاڑی اچھا کھیل دکھاتا تو پاکستانی لوگ تالیاں بجاتے۔ اور انگریز جو وہاں ہوتے وہ کسی پر فمنہ نہ ہوتے بلکہ دونوں پر مسکرا دیتے۔ یہی آپ کو بھی کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader