Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر ہھیش شرانے کہا کہ آج کی سمیا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کا احترام نہیں۔ دوسروں میں بھی وہی ہے جو مجھ میں ہے ، یہ دیکھنے کی طاقت لوگوں میں نہیں۔ تمام سمجھ دار لوگوں کا کہنا ہے کہ دشمن اگر کوئی ہے تو وہ تمہارے اندر ہی ہے۔ پر اب ہم نے دشمن بدل لئے ہیں۔ اب ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دشمن ہمارے اندر نہیں ہے ، باہر ہے۔ بھاجپا کا دشمن کانگریس ، کانگریس کا دشمن بھاجپا۔ یہ سوچ بدلنا ہوگا۔ اپنے بارہ میں کڑوی بات سننے کی استنھی ہونی چاہئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت بھارت میں ٹھٹکی ہوئی حالت ہے۔ ہم ۸۵ کروڑ لوگ آج ٹھٹکے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ کدھر جائیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ دھرم کو آدھار بنا کر ہندو نے پہلے کام نہیں کیا۔ آج وہ دوسروں کی دیکھا دیکھی کر رہا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے چیتاونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ رام کا مندر بنانے میں بھارت کا مندر نہ ٹوٹ جائے۔ ایک ہندو ڈبلی گیٹ نے ۲۴ جنوری کی میٹنگ میں کہا کہ کیلاش پربت اور مان سرور جھیل ہندوؤں نیز بدھوں میں بہت اہم مقدس مقام (Most important holy site) مانا جاتا ہے۔ ہندو تو اس کو بھگوان شیو کا سورگ مانتے ہیں۔ ہماری اتنی مقدس جگہ پر ۱۹۶۲ میں چین نے حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ لیکن آرایس ایس یا سبھا چاپایا ہندو پریشد کے لوگ اس کے خلاف کوئی اندولن نہیں چلاتے ۔ اور ایودھیا کے اوپر اتنی دھوم مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ دیش کو گراؤ۔ چنانچہ ہم نے دیش کو گرایا۔ مگر نتیجہ دیکھنے کے بعد اب سمجھ میں آتا ہے کہ لوہیا کا نعرہ ٹھیک نہیں تھا۔ زیادہ ٹھیک نعرہ یہ ہے کہ دیش کو ٹھنڈا کرو ۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمیں کسی بھی حال میں گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے ۔ ایک وقت تھا کہ کمیونزم کو ساری دنیا میں (unassailable ideology) سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج اس کے برعکس سمجھا جا رہا ہے۔ ایک صاحب گاندھیائی علوم کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ مہاتما گاندھی نے ایک بار اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ ہند و مسلم ایکتا دیش کی ترقی کے لئے اتنا زیادہ ضروری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page