ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ مگر اس کے آگے ہم اس کو جاری نہ رکھ سکے۔ رام بہادر رائے نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ نے اگلے دس سال تک کا ایجنڈا طے کر دیا ہے۔ ۶ دسمبر کی گھٹنا نے طے کر دیا ہے کہ اگلے دس سال تک دیش کی پالی ٹکس ہندو کے ارد گرد گھومے گی۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو دوسرے ہندو مقرر نے کہا : یہ دیش کے لئے بہت درگھٹنا کی بات ہوگی کہ دیش کا دس سال کا ایجنڈا صرف کوئی ایک دن طے کرے۔ میرا دل ایسی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ڈاکٹر راجکمار بھاٹیا اسکول کی زندگی سے آر ایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے والد کٹر آر ایس ایس تھے۔ چنانچہ بیٹے بھی آر ایس ایس سے وابستہ ہو گئے۔ میں نے ڈاکٹر بھاٹیا سے پوچھا کہ ہندو مسلم تعلق کو نارمل بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں (interaction) بڑھایا جائے۔ میں نے کہا کہ اور کوئی عملی چیز جو مسلم سے آپ چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایودھیا ایشو پر آپ لوگ راضی ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کافی نہ ہو۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے لئے اینٹی مسلم لیگ ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اگر ایودھیا اشو ختم ہو جائے تو آپ لوگ کوئی اور اشو ڈھونڈ کر کھڑا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ اس کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جیل کے زمانہ میں مسلمان اور آر ایس ایس در دونوں دوست بن گئے تھے۔ بی کے رائے، الہ آباد یونیورسٹی میں ہسٹری کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں کمبھ میلے میں گیا۔ وہاں ایک کروڑ سے زیادہ آدمی آتے ہیں۔ گرمی میں نے دیکھا کہ وہاں کوئی بھوکا نہیں رہتا۔ کسی آدمی کے پاس ایک پیسہ نہ ہو تب بھی اس کو کھانا مل جاتا ہے۔ یہ دھرم کی طاقت ہے۔ ایک صاحب نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ پی اے سی میں افسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندو دھرم کے مطابق سچائی کئی ہو سکتی ہے اس لئے ہند و ازم کا نباہ تو ہر ایک سے ہو سکتا ہے۔ مگر اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے مطابق سچائی صرف ایک ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا نباہ دوسروں سے کس طرح ہوگا۔ میں نے کہا کہ ” سچائی کئی ہے “ محض کہنے کی بات ہے۔ وہ عمل میں آنے والی نہیں۔ اگر وہ کوئی حقیقی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader