Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

بات ہوتی تو ماضی میں برہمن لوگ بدھوں کے مندر نہ توڑتے۔ یا آج ہند تو کے علمبردار ۶ دسمبر کو بابری مسجد نہ توڑتے۔ میں نے کہا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ روزانہ کی زندگی میں گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہم طرح طرح کے اختلافات سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہاں ہم کیا کرتے ہیں۔ وہاں ہم برداشت کے اصول پر عمل کرکے زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی اختیار کرنا ہے۔ یعنی مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود ٹالرنس (tolerance) "۱۹۷۲ کے بعد نیشن بلڈنگ کا کام نہ ہوسکا" ایک صاحب نے کہا۔ اپنی بھومیکا (ذمہ داری) کو پورا کرنے کا دھیان آج بھی لوگوں میں نہیں۔ ۶ دسمبر کے بعد نیشن بلڈنگ میرے نزدیک ایجنڈا میں نمبر ایک پر ہے۔ ۱۹۸۴ میں ہم لوگ بات کرتے تھے کہ کسی گھر میں ایک وکیتی مرا ہو تو اس کے گھر میں کتنا زیادہ آتنک واد پیدا ہوگا۔ اب یہی بات اور زیادہ بڑھ کر ہمارے سامنے ہے۔ آج جن گھروں میں لوگ مرتے ہیں ان کے یہاں اور کتنا زیادہ آتنک وادی پیدا ہوں گے۔ اوشیش سوامی (ورندابن) نے کہا کہ اس شکتی کے نام تو انیک ہیں۔ لیکن شکتی ایک ہی ہے جسے جن نینتا، خدا، گاڈ، رب، واہی گرو، نام انیک ہیں۔ کنتو سمبھودن ایک ہی شکتی کو کیا جاتا ہے۔ جھگڑا پوجا کا نہیں ہے اور پوجا پڑھتی کا بھی نہیں ہے۔ جھگڑا کیوں اپنی دکانداری کا ہے۔ کیوں کہ کچھ لوگوں کی دکانداری انھیں ندروں کے ذریعہ سے چلتی ہے اس لئے آپسی تناؤ بھی دیکھنے میں ملتا ہے۔ یری روحانی نظر سے دیکھیں تو سروم کھلو دم برہم یعنی برہم ہی سب میں سمایا ہوا ہے۔ جب سبھی میں برہم سمایا ہوا ہے تو جاتی گت جھگڑے، اوپر نیچے کے جھگڑے، بھاشائی جھگڑے رہ ہی کہاں جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنے نظریہ کو دنیا وی نظر کے ساتھ پوچانی نظر والابھی بنانا ہوگا۔ ایک بڑے ہال میں فرش بچھا ہوا ہے۔ سیمینار میں حصہ لینے والے تقریباً ساٹھ آدمی دائرہ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مختلف لوگ موجودہ ملکی حالت پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اتنے میں ایک لڑکا ایک تھال لئے ہوئے داخل ہوتا ہے۔ تھال میں کٹی ہوئی مولی مع پتہ رکھی ہوئی ہے جس پر نمک چھڑ کا ہوا ہے۔ وہ لڑکا تھال لئے ہوئے سب کے سامنے سے گز رتا ہے۔ ہر ایک بقدر خواہش مولی لے لیتا ہے اور اس کو کھانا شروع کر دیتا ہے۔ آخر میں چائے لائی جاتی ہے اور ہر ایک کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page