ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے چائے کی ایک پیالی رکھ دی جاتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ رندابن کا یہ سیمنار کتنا سادہ تھا اور اس کی کارروائی کتنے بے تکلفی کے انداز میں کی گئی۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ کیوں کہ سادگی میری فطرت ہے۔ میں ہر معاملہ میں سادگی کو پسند کرتا ہوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ دیش کیا ہے، دیش مدرا ہے، یا دھرام مدرا ہے۔ دیش پہلے ہے یا دھرام پہلے ہے۔ دھرام کچھ لوگوں نے مدرا بنایا۔ اس کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا کہ خود دیش خطرہ میں پڑگیا۔ اس لئے اب اس کو ختم کرو۔ دیش کو مدرا بناؤ۔ ایک صاحب نے کہا کہ جس طرح انگریزوں کے اسٹیج یہ ہاں غلامی کی یادگار تھے۔ ان کو ہم نے ہٹایا۔ اسی طرح بابری مسجد جیسے ڈھانچے بھی مسلم غلامی کی یادگار ہیں۔ ان کو بھی توڑ کر ختم کرنا ہوگا۔ جب تک غلامی کی یہ یادگاریں کھڑی ہوئی ہیں، دیش میں شانتی آنے والی نہیں۔ ایک صاحب نے بابری مسجد ڈھانے کو عین درست بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پر ہمارے لوگ معذرت کا انداز کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اگر پندرہ اگست پر ہم کو کوئی شرم نہیں ہے تو ۶ دسمبر پر بھی ہم کو شرمانا نہیں چاہئے۔ اس سیمنار میں ایک خاص تجربہ یہ ہوا کہ اگر مسلمان چپ رہیں تو خود ہندو لوگ ہم سے بہتر اور مؤثر انداز میں اس کا جواب دیں گے ۔ اس کا تجربہ رو ندابن میں کئی بار ہوا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی مقرر نے مسلم دشمن تقریر کی ۔ میں چپ رہا۔ اس کے بعد کوئی ہندو اٹھا اور اس نے نہایت طاقت ور انداز میں اس کا جواب دیا، ایسا کہ اگر میں جواب دیتا تو شاید میں اتنا طاقت ور جواب نہیں دے سکتا تھا۔ او دے پور کے کشور سنت (28271 Telephone) نے بڑی درد مندانہ تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ آج یہ لوگ ساری بات گاندھی کے نام پر کر رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہی گاندھی واد ہے۔ اس اندولن سے جو شختی ابھری ہے وہ تو ہنسک شکتی ہے۔ پھر وہ گاندھی واد کیسے ہے جب کہ گاندھی واد انہسا کا نام ہے۔ میں نے گاندھی کے زمانہ کو دیکھا ہے۔ مگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر مجھے اپنا جیون بالکل زہر تھک لگتا ہے۔ نفرت کی آگ آج و یا پاک ہے۔ گاندھی کا دیش اب نہیں ہے۔ بالکل اندھ کا رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader