ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
ورندابن کی اس میٹنگ میں زیادہ بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو بھارتیہ جنتا پارٹی سے کسی نہ کسی نوعیت کا تعلق رکھتے تھے۔ مجھے تقریر کا موقع دیا گیا تو میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ کی تقریر میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے موجودہ سنگل پوائنٹ پروگرام (single-point programme) کے تحت کبھی مرکز میں حکومت تک نہیں پہنچ سکتی۔ کچھ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک قسم کی منتظرِ حکومت کا درجہ دئیے ہوئے ہیں، مگر موجودہ حالت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ (government-in-waiting) میں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوتیا ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔ مگر مذہب کی بنیاد پر سیاسی نظام بنانا یہ روحِ عصر (spirit of the age) کے خلاف ہے۔ اور جو نظریہ عصری مزاج کے خلاف ہو اس کو قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی قریبی مثال مسلم ملکوں کا تجربہ ہے۔ مصر، پاکستان، الجیرائر، سوڈان اور دوسرے ملکوں میں کچھ مسلم جماعتوں نے اسلامی حکومت قائم کرنے کا نعرہ بلند کیا۔ انھوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی دیں۔ مگر ان کو صد فی صد ناکامی ہوئی۔ اور اس کی وجہ اصلًا یہی تھی کہ مذہب کی بنیاد پر سیاسی نظریہ بنانا ایک ایسا نظریہ ہے جس کو وقت کی غالب سوچ کی تائید حاصل نہیں۔ میں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اگر مرکزی سرکار بناتی ہے تو اس سے مجھے نہ اختلاف ہے اور نہ اس کو میں کوئی خطرہ سمجھتا ہوں۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ "مندر ۔ مسجد" کے اشو کی بنیاد پر وہ کبھی مرکز میں نہیں پہنچ سکتی۔ مرکز میں طاقت حاصل کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کوئی ایسا اشو لینا ہوگا جو پورے ملک کی دل چسپی کا اشو ہو، جو دیش کو بنانے کا اشو ہو نہ کہ محدود طور پر مندر بنانے کا اشو۔ یہ عجیب بات ہے کہ عملی تجربہ کے بعد جو حالات سامنے آئے، اس کے بعد خود بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ چنانچہ پارٹی کے بنگور سشن (جون 1993) میں انھوں نے صاف طور پر اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا۔ پارٹی کے موجودہ صدر مسٹر لال کرشن آڈوانی نے کہا کہ اب ہمارا فوکس رام مندر بنانے پر نہیں ہوگا۔ بلکہ بھارت کا مہا مندر بنانے پر ہوگا۔ ہمیں ملک سے بھر شٹا چار کو ختم کرنا ہے اور یہاں سماجی نشاۃ ثانیہ (social renaissance) کا دور لے آنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader