ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے غلطی کی تصحیح کے نظریہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح مسجد ڈھانے کے عمل کو اگر ایک بار آپ جائز (legitimate) مان لیں تو پھر سلسلہ مسجد تک نہیں رہے گا۔ وہ آگے تک جائے گا۔ بس اب ختم کرو ، یہ کہنے کی ہمت ہمارے اندر ہونی چاہئے۔ ورنہ آئندہ بات یہاں تک پہنچے گی کہ ایک آدمی آپ کے گھر پہنچے گا اور کہے گا کہ یہ زمین تمہارے دادا نے میرے دادا سے زبردستی لے لی تھی ، اب میں دوبارہ اس پر قبضہ کروں گا۔ اس کے بعد ہمارے سماج کا کیا حال ہوگا۔ اس کو سوچئے۔ اس طرح کے عمل سے ہنسا کو (legitimacy) ملتی ہے۔ ایک ہندو اسکالر نے اپنی تقریر کے دوران یہ واقعہ بتلایا کہ گاندھی جی نے لکھا ہے کہ سیکنڈ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (۱۹۳۱) کے موقع پر گاندھی جی کی ملاقات علامہ اقبال سے لندن میں ہوئی۔ اقبال نے اپنا تعارف کراتے ہوئے گاندھی جی سے کہا : میں کشمیری پنڈت ہوں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ہندو اور مسلمان دونوں عام طور پر اسی طرح اپنے پن کے انداز میں بات کرتے تھے۔ مگر اب ”دو قومی نظریہ“ کی مصنوعی تحریک کے نتیجہ میں دونوں طرف کا مزاج بدل گیا ہے۔ اب اس طرح کی بولی بولنے میں قومی عصبیت حائل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر مہیش شرما نو جوانی کی عمر سے آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ ایک روز گفتگو کے دوران میں نے کہا اس وقت قومی یکتا لانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے ، وہ ٹالرنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ گر ڈگلوالکر ٹالرنس کے شید کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے ، ہم تو دوسروں کا سواگت کرتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ۔ میں سچا تو تم بھی سچے ۔ کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ دھرم سے متعلق جھگڑوں میں ہم کو زیادہ توجہ نہیں دینا چاہئے۔ زیادہ توجہ کے قابل دوسرے ایشو ہیں ، مثلاً تعلیم ، اقتصادیات ، افراد کے اندر نیشنل کیریکٹر پیدا کرنا۔ وغیرہ۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ نئی نسل کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دیش کی ترقی میں اپنا صحیح رول ادا کر سکے۔ جن استاکے پترا کار مسٹر رام بہادر رائے سب سے کم بولتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader