Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی وہ بولتے ہیں تو لوگ بہت توجہ کے ساتھ ان کی بات سنتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو اہم سمجھتے ہیں۔ مگر کم بولنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مگر کم بولنے کے لئے تحمل کی طاقت درکار رہے ، اور تحمل کی طاقت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش میں ہنسا (تشدد) بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم لوگ ہنسا کا ورودھ اہنسا سے کریں گے ، یہ طے کر کے یہاں سے ہمیں اٹھنا ہے۔ ہم لوگوں کو ہر طرح کے بھیڈ بھاؤ سے اوپر اٹھنا ہے۔ انسان سب سے بڑھ کر ہے ، یہ مان کر یہاں سے جانا ہے۔ انسان پہلے ہے اور دھرم اور پال ٹیکس سب اس کے بعد ہے۔ مسٹر راج نرائن سنگھ (P.A.C) اعظم گڑھ میں پولیس افسر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو دیش کے پچھلے پروچ کو اپنا پروچ ماننا ہوگا۔ اس کے بنا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک صحیح اور باقی سب غلط ہیں تو ایسی حالت میں ایڈ جسٹمنٹ اور بھائی چارہ کیسے و قائم ہو سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی نظر میں ہندو سب کے سب کافر ہیں تو دونوں میں برابری کا تعلق کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے تمام عقیدوں کو (disown) کرنا ہوگا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے سمبندھ میں یہ ایک بہت پورن مداسہ ہے۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ پاکستان اگر کرکٹ جیتے تو وہ یہاں لڑ و بانٹتے ہیں، پھر ان کی دیش بھگتی پر کیسے نہ شبہ کیا جائے ۔ ایک روز کانفرنس کے اجلاس میں ایک انتہا پسند ہندو نے بڑی گرما گرم تقریر کی۔ مسلم نقطہ نظر سے وہ کافی اشتعال انگیز تھی۔ میں خاموشی کے ساتھ تقریر سنتا رہا۔ اس کے بعد وقفہ ہوا تو میں کانفرنس ہال کے باہر نکلا۔ میں نے دیکھا باہر بالکل دوسرا منظر ہے۔ ہال کے باہر مقرر کی "اشتعال انگیزی" کا کوئی اثر نہ تھا۔ یہاں اب بھی درخت اسی طرح ہر یالی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ آسمان کی وسعتیں بدستور اپنی جگہ قائم تھیں ۔ سورج اپنی روایتی شان کے ساتھ اب بھی اپنی روشنی پھیلائے ہوئے تھا۔ چڑیوں کی آوازیں اس طرح سنائی دے رہی تھیں جیسے کہ انھیں ان باتوں کی کوئی پرواہی نہ ہو۔ دوسری طرف مقامی بازار میں دیکھا تو یہاں بھی لوگ اسی طرح لین دین میں مشغول تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page