بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لئے اس کیس کو کلوز کر دیا جائے اور مقتول کے وارثوں کو پانچ ہزار روپیہ بطور تلافی دے دیا جائے۔ لارڈ کرزن نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ مقتول کو پانچ ہزار روپیہ ہم دے دیتے ہیں۔ مگر کیس کو ہم کلوز نہیں کریں گے۔ بلکہ پوری انگریز بٹالین کو اس کی سزا دیں گے۔ چنانچہ وائسرائے نے ایک ہزار فوجیوں کی اس انگریز بٹالین کو برما کے ایک غیر ترقی یافتہ علاقہ میں بھیج دیا جو کہ ملیریا کا علاقہ تھا۔ وہاں پوری بٹالین دو سال تک بطور سزا رہی۔ بہت سے لوگ ملیریا کی وجہ سے بیمار ہو گئے اور سترہ انگریز فوجی وہیں مر گئے۔ ڈاکٹر عبد الحکیم نائیک بہت باشور اور دردمند آدمی ہیں۔ وہ اپنے دو صاحبزادوں ، ڈاکٹر محمد نائیک اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ نہایت مفید انداز میں ’’دعوة ورک‘‘ کر رہے ہیں۔ یکم فروری کی شام کو مدھو مہتا صاحب کی رہائش گاہ پر جو میٹنگ ہوئی، اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں اجتماع کے بعد ان لوگوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسری انگریزی کتابیں لوگوں کے درمیان تقسیم کیں۔ لوگوں نے بہت شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ ڈاکٹر نائیک صاحب نے کہا کہ مسلم نوجوان اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے لئے مواقع نہیں جو مواقع بظاہر مہیا نہیں ہیں ان کی تو وہ شکایت کرتے ہیں۔ مگر جو مواقع مہیا ہیں ان کو وہ استعمال نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز یہ ہے کہ آدمی ڈسپلن والی زندگی اختیار رکھے۔ اس سلسلہ میں ایک ضروری کام یہ ہے کہ ہر آدمی ڈائری رکھے اور روزانہ اپنی سرگرمیوں کا اس میں اندراج کرے ۔ اسی طرح ملک میں بہت سے رضا کارانہ ادارے (volunteer bodies) ہیں جو مفت میں مختلف قسم کی چیزیں سکھاتے ہیں۔ مثلاً جرنلزم، اسمائل اسکیل انڈسٹری، جمنازیم اسکاؤٹنگ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی رضا کار تنظیموں سے وابستہ ہو کر مسلم نوجوانوں کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ۲ فروری کی دوپہر کو مہاراشٹر اسٹیٹ پولیس کے ہیڈ کوارٹر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی بلڈنگ میں قائم ہے۔ یہاں انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر جی این اوبالے (G. N. Ubale)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader