Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ڈپٹی کمشنر آر ایس راٹھور (R.S. Rathod) اور دوسرے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عام طور پر لوگ پولیس کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ پولیس کے لوگ بھی دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی ہوتے ہیں۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کو چھیڑیں تو وہ غصہ میں آجاتا ہے۔ حتیٰ کہ مقدس بزرگ بھی۔ جب آدمی کسی کے اوپر غصہ ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف ہر کاروائی کرتا رہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ جس آدمی کے پاس کنکر ہے وہ کنکر پھینک کر مارے گا۔ اور اگر بندوق ہے تو وہ بندوق چلائے گا۔ گویا کہ یہ معاملہ وہ ہے جس کی بابت فارسی شاعر نے کہا کہ: ایں گنہ است کہ در شہر شما نیز کنند۔ مسٹر آرایس راٹھور، پہلی پولیس میں ڈپٹی کمشنر ہیں۔ ان کی فرمائش پر ۳ فروری کی شام کو ان کے یہاں کھانا کھایا۔ کھانا، فرنیچر، مکان، ہر چیز میں سادگی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ صرف تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ واقعہ یہی ہے کہ وہ عام پولیس افسروں سے بہت مختلف ہیں۔ کھانے کے دوران انہوں نے کئی قصے بتائے۔ ایک یہ تھا کہ ۱۹۷۷ء میں جب جنتا گورنمنٹ نے اندرا گاندھی کو گرفتار کیا، اس وقت وہ پربھتی میں پولیس افسر تھے۔ اس وقت شہر میں دو جلوس نکلے۔ ایک کانگریس پارٹی کا جو حکومت کے خلاف بطور احتجاج تھا۔ دوسرا جنتا پارٹی کا جو حکومت کی حمایت میں تھا۔ دونوں ایک ہی سڑک پر مخالف سمتوں سے آرہے تھے۔ اس سے ظاہر تھا کہ ایک پوائنٹ پر پہنچ کر دونوں میں ٹکر اور ضروری ہے۔ دونوں طرف ہزاروں آدمی تھے اور دونوں ہی جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ مسٹر راٹھور وردی میں ملبوس ہو کر موقع پر پہنچے۔ انہوں نے جلوس کا مانگ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس یہاں کافی فورس موجود ہے۔ اگر آپ لوگ تشدد کرتے ہیں تو میں بھی تشدد کروں گا اور فوراً فائرنگ کا آرڈر دے دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ جلوس میں بہت سے معصوم (Innocent) لوگ ہیں۔ اگر فائرنگ ہوئی تو سب سے پہلے یہی معصوم لوگ مریں گے۔ اس لئے میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو فوراً یہاں سے چلے جائیں۔ اس اعلان کے بعد آدھے سے زیادہ لوگ جلوس سے نکل کر چلے گئے۔ اس کے بعد جلوس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page