Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

مدراس کا سفر پیس مشن کے تحت ایک سفر ہوا۔ اس کا راستہ اس طرح تھا ____ دہلی ، مدراس ، کاپچی پورم ، منگلور ، سرینگیری ، بمبئی ، پونہ ، دہلی۔ اس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل افراد شامل تھے : اچاریہ سوشیل کمار ، سوامی چیداند ، مدھو مہتا ، شانتی لال موتھا ، نائجل ایڈمنڈولی۔ اس سفر کی مختصر روداد تاریخ وار درج کی جاتی ہے۔ ۱۵ فروری ۱۹۹۳ صبح فجر سے پہلے نظام الدین سے روانہ ہو کر دہلی ایئر پورٹ پہنچا۔ ایئر پورٹ پر ساڑھے پانچ بجے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے: یا اللہ ، آپ کا ایک کمزور ترین بندہ ایک مشکل ترین کام کے لئے نکلا ہے۔ اس کی مدد فرمائیے۔ ملک میں امن و امان فرمائیے اور اہل وطن کے لئے اپنی رحمت و برکت کے دروازے کھول دیجئے۔ دہلی سے مدراس کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۲۳۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دہلی سے اس قافلہ میں اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چیدانند اور نائجل ٹولی (آسٹریلیا) شریک تھے۔ مدراس پہنچ کر مسٹر مدھو مہتا ( ہندوستانی اندولن ) اور مسٹر شانتی لال موتھا بھی اس میں شامل ہو گئے۔ یہ دونوں بمبئی سے براہِ براہ راست مدراس پہنچے تھے۔ دہلی اور مدراس کے درمیان سفر میں اچاریہ جی اور سوامی جی سے اس پر بات ہوئی کہ ملک میں امن و امان کس طرح قائم ہو۔ دونوں نے اس سے اتفاق کیا کہ بے غرض اور غیر متعصب قسم کی مذہبی شخصیتوں کو سامنے آنا چاہئے۔ ایسے ہی لوگ اس وقت کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سوامی جی نے کہا کہ بہتر انسانی تعلقات میں سب سے زیادہ جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ ایگو ہے۔ "میں " کا ذہن ٹکڑاؤ پیدا کرتا ہے ، اور اگر میں کا ذہن ختم کر دیا جائے تو اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا : The term “I” in the vertical form stands for ego, but in the horizontal form it becomes a bridge between two points.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page