مدراس کا سفر
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ حکومت کی اوپن اسکائی پالیسی (open-sky policy) کے نتیجہ میں اس وقت تقریباً چالیس پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں ملک میں کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ایسٹ ویسٹ ہے ۔ اس کو بمبئی کے مسلمانوں نے قائم کیا ہے۔ (East West Air Ways) اس کے منیجنگ ڈائرکٹر ٹی اے وحید ہیں۔ یہ ایک بڑی کمپنی ہے جو ۱۴ اسکٹرمیں اپنے دس جہاز چلا رہی ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں میں سے جو لوگ مسائل تلاش کر کے ان میں الجھے رہتے ہیں، ان کے پاس شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو تلاش کرتے ہیں ان کو یہاں ایسے مواقع مل جاتے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر لیں۔ درمیان میں ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے حیدر آباد میں اترا۔ اس کے بعد وہ مزید پرواز کر کے مدراس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ مدراس میں ہم لوگوں کا قیام ایک ہندو تاجر کے مکان پر تھا۔ دوپہر کا کھانا یہیں کھایا گیا۔ کھانے کی میز کے گرد کئی مقامی اور غیر مقامی ہند وصاحبان موجود تھے۔ وہ لوگ مسلسل بات کرتے رہے۔ میں خاموشی کے ساتھ صرف ان کی باتیں سنتا رہا۔ اس گفتگو کے بعد میری وہ رائے مزید پختہ ہوگئی جو اس سے پہلے اپنے مطالعہ کے دوران میں نے قائم کی تھی۔ وہ یہ کہ مسٹر محمد علی جناح نے ۱۹۳۷ء سے پہلے جو سیاست مسلمانوں کے درمیان چلائی، ٹھیک اسی انداز کی سیاست اب ہندو انتہا پسند ہندوئوں کے درمیان چلا رہے ہیں۔ یہ خطرہ کی سیاست ہے۔ مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے کچھ فرضی یا واقعی باتوں کو لیکر مسلمانوں کو بتایا کہ ہندو تمہارے لئے زبردست خطرہ ہے۔ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ تمہارے ملی وجود کو مٹادے گا۔ وہ تم کو ترقی نہیں کرنے دے گا۔ اسی کے ساتھ زرد صحافت کو استعمال کر کے انھوں نے بیشتر مسلمانوں کو بہکایا۔ انھوں نے نان اشو کو اشو بنایا اور پھر اس کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کر کے مسلمانوں کو ہندوئوں کے خلاف بھڑکا دیا۔ اس کا نتیجہ ملک کا بٹوارہ تھا۔ اب ہندوئوں کے انتہا پسند لیڈر ٹھیک اسی مریشانہ سیاست کو ہندوئوں میں دہرا رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو خطرہ کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ بے بنیاد باتوں کو لے کر انھیں اشو بنایا۔ ان کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ انھوں نے ہندوئوں کو یقین دلایا کہ مسلمان اس ملک کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے ذریعہ کچھ برسوں کے بعد وہ بھارت کو اسلامستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader