مدراس کا سفر
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
بنا دیں گے۔ اس جنسی سیاست نے پہلے ملک کا بٹوارہ کیا تھا۔ اب وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا بٹوارہ کر رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں میں اتنی زیادہ دوری آچکی ہے کہ ایک سماج میں دونوں کا معتدل طور پر رہنا ہی نامکن دکھائی دینے لگا ہے۔ مزید درد ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے نااہل لیڈر اپنی نا عاقبت اندیشانہ کارروائیوں کے ذریعہ اس دوری میں صرف اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ مدراس سے شنکر اچاریہ کے یہاں جانا تھا۔ چنانچہ یہاں سے بذریعہ کار کا نچی پورم کے لئے روانگی ہوئی۔ وہاں ہم لوگ ڈھائی بجے دن میں پہنچے۔ کانچی کے شنکر اچاریہ (جگت گرو شنکر اچاریہ) سے تقریباً دو گھنٹہ کی ملاقات رہی۔ یہ آشرم کافی بڑا ہے۔ مگر وہ اتنا ہی سادہ ہے۔ نظم اور صفائی کا زیادہ اہتمام نظر نہیں آتا۔ کانچی کے شنکر اچاریہ عمر میں اور انتہائی سادہ مزاج آدمی ہیں۔ گفت گو میں ہنسی کا انداز غالب رہتا ہے۔ ابتدائی مشاہدہ میں مجھے خیال ہوا کہ وہ بالکل سیدھے سادے ایک سنت ہیں۔ مگر بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ حالات سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اور ہر معاملہ میں نہایت چنچی تلی رائے دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے احوال سے بھی وہ کافی باخبر نظر آئے۔ شنکر اچاریہ نے جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ مندر اور مسجد کا جھگڑا اس طرح طے کیا جانا چاہئے کہ دیش کی شانتی بھنگ نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ دیش میں اگر شانتی نہ ہو تو اس کے بعد دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دن ہم لوگ کانچی پورم سے لوٹ کر مدراس آگئے یہاں شام کو نماز مغرب کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ مدراس کے انگریزی اور تامل اخباروں کے رپورٹر موجود تھے۔ یو این آئی کی طرف سے بھی ایک نمائندہ اس میں شریک تھا۔ گفت گو زیادہ تر ایودھیا کے مسئلہ پر ہوئی۔ میں نے تین نکاتی فارمولا کی وضاحت کی۔ اس پریس کانفرنس میں میرے علاوہ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چید اند بھی موجود تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader