Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرس میں کئی تعلیم یافتہ افراد سے ملاقات ہوئی۔ ایک ہندو تاجر مسٹر سی ایل مہتانے کہا کہ ایودھیا میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو کچھ ہوا، اس کا مکمل ویڈیو فلم تیار کیا گیا تھا۔ اس کو اب جگہ جگہ دکھایا جا رہا ہے۔ اگر پہلے سے اس کا منصوبہ نہ بنایا گیا ہوتا تو اس عمل کا پورا نلسم کیسے تیار کیا جاسکتا تھا۔ اس فلم کے اثرات بے حد خطر ناک ہیں۔ ایک ہندو نوجوان نے اس فلم کو دیکھ کر کہا : آخر کار ہم نے فتح پالی۔ ایک اور ہندو نوجوان اس کو دیکھنے کے بعد بول اٹھا: غلامی کا نشان مٹ گیا۔ ایک اور ہندو نوجوان نے کہا: مسلمان دبائو کی بھاشا سمجھتے ہیں، یہ بات اب پکی ہو گئی۔ مدرس اس سے ہم لوگوں کو منگلور جاتا تھا۔ اور پھر وہاں سے سرینگری جا کر دوسرے شنکراچاریہ سے ملنا تھا، قیام گاہ سے ایر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے تو گاڑی میں میرے ساتھ آسٹریلیا (سڈنی) کے ۳۳ سالہ مسٹر نائجل ایڈمنڈ ٹولی (Nigel Edmund Tolley) بھی موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ انڈیا اور آسٹریلیا میں آپ نے کیا فرق دیکھا۔ انھوں نے بہت سے مادی فرق بتائے مثلاً زیادہ آمدنی، زیادہ صاف سڑکیں، زیادہ اچھے گھر، ہر چیز اعلیٰ صنعتی معیار کی۔ میں نے کہا کہ کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آسٹریلیا کے لوگ ہندوستان سے زیادہ خوش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ خوشی کا تعلق دل سے ہے، اس کا تعلق مادی چیزوں سے نہیں : Happiness comes from the heart, not from money. مسٹر ٹولی نے ایک لڑکی سے شادی کی۔ اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ مگر چند سال کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اب دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ دونوں غیر مطمئن ہیں۔ دونوں میں سے کسی نے ابھی تک دوسرا نکاح نہیں کیا۔ مغربی ملکوں میں طلاق کی کثرت کی وجہ انھوں نے یہ بتایا کہ آزادی کا تصور اتنا غالب ہے کہ عورتیں مرد کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔ مدرس سے منگلور کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۵۵۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں انڈین ایکسپریس (۶ فروری) دیکھا۔ اس میں صفحہ ۶ پر ایک کتاب کا تذکرہ تھا : Dr Barbara Theiring, Jesus the Man ڈاکٹر بار برانے ۲۰ سال تک بحر مردار کی دستاویزات (Dead Sea scrolls)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page