مدراس کا سفر
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ کتاب تیار کی ہے۔ اس میں حضرت مسیح کی زندگی کے جو حالات ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہیں جو موجودہ انجیل میں ہیں یا مسیحی چرچ میں بتائے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق حضرت مسیح نے دو بار نکاح کیا۔ ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک بچی کا نکاح پال سے ہوا۔ حضرت مسیح سولی کے بعد بھی زندہ رہے۔ اور بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر ان کی وفات ہوئی۔ وغیرہ۔ مبصر نے ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: The Christ whom Christians worship and the Jesus of the New Testament do not appear to be the same person. The former is the romantic product of theology and the latter, an intolerant prophet who denied his own mother at a wedding party, cursed a tree for not bearing fruit, promised to divide family members against each other. ۱۰ بجے دن میں ہمارا جہاز منگلور کے ہوائی اڈہ پر اترا گیا۔ ہمارے قافلہ میں پانچ آدمی تھے۔ یہاں سے ہم لوگ کار کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ سڑک کے دونوں طرف دور تک سرسبز وادیوں کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم مسلسل سفر کی وجہ سے میرا سر بوجھل ہو رہا تھا۔ سڑک کے اندر چکہر کی سی کیفیت تھی۔ میں چاہتا تھا کہ قدرتی مناظر کو دیکھنے کی خوشی حاصل کروں۔ مگر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری ذہنی حالت اس میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ میرے دل نے کہا کہ قادر مطلق کی شان کے خلاف ہے کہ وہ انسان کو امپر فیکٹ دنیا دے مگر وہ اس کو پرفیکٹ دنیا سے محروم رکھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا یہ محسوس کرنا کہ یہ دنیا اس کے لئے امپر فیکٹ ہے، یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پرفیکٹ دنیا بھی ضرور اس کے لئے تیار کی گئی ہے۔ منگلور سے بذریعہ روڈ ہم نے ڈھائی گھنٹہ کا سفر طے کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ ڈیڑھ بجے دن میں سرنگیری (Sullageli) میں داخل ہو گئے۔ یہیں پر بستی کے کنارے ایک بڑے رقبہ میں شنکر اچاریہ کا آ شرم ہے جو ۱۲ سو سال سے قائم ہے۔ سرنگیری میں ایک معلوماتی کتاب ۱۲۵ صفحہ کی ملی۔ یہ ۱۹۹۱ء میں انگریزی میں چھاپی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جگہ گرد و آدی شنکر اچاریہ (۸۲۰ - ۷۸۸ء) نے صرف ۳۲ سال کی عمر پائی۔ مگر انہوں نے انڈیا کی تاریخ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے دیش بھر کا سفر کر کے چار کونوں پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader