مدراس کا سفر
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
چار مٹھ بنائے ۔ دوارکا (ویسٹ)، بدری کیسرا (نارتھ)، جگناتھ (ایسٹ)، سرنگری (ساؤتھ) تعارف کتاب کا ایک ذیلی عنوان ٹیپو سلطان کے بارے میں ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیپو سلطان کے کئی خطوط مٹھ کے دفتریں محفوظ ہیں۔ ایک خط کے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں : سرنگری کے شنکر اچاریہ سے ملنے کے لئے یہاں کا سفر ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ آدی شنکر اچاریہ نے بھارت میں چار مرکز قائم کرنے کے بعد یہیں قیام کیا تھا۔ ان کے آخری ایام اسی جگہ گزرے۔ سرنگری مٹھ بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے۔ ۴۶ ایکڑ کے رقبہ میں واقع اس مٹھ میں نظم اور صفائی اعلیٰ معیار کی نظر آئی۔ یہ مٹھ قدرتی مناظر کے درمیان واقع ہے۔ جگہ نہایت پرفضا ہے۔ پورے ماحول میں ایک خوشگوار سکون چھایا ہوا ہے۔ چڑیوں کی آواز کے سوا کوئی اور آواز اتفاقا ہی کبھی سنائی دیتی ہے۔ ندی، باغ پل، پارک، پہاڑیاں، یہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے یہاں کھایا۔ میرے علاوہ سوامی چیدانند، مدھو مہتا، شانتی لال مونٹھا اور مسٹرولّی شریک تھے جو ہندوازم سے متاثر ہیں۔ ایک بڑے کمرہ میں سادہ میز کے چاروں طرف سادہ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر کیلے کے ہرے پتے بچھائے گئے۔ پھر اسی پتہ کے اوپر روٹی ، چاول، سالن وغیرہ باری باری لا کر رکھا گیا۔ ہر چیز صاف ستھری اور صحت بخش تھی۔ سرنگری مٹھ کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر گوری شنکر (V.R. Gowri Shankar) بھی کھانے میں شریک تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر مٹھ کے اندر اپنے کمرہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آرام کیا۔ شام کو چار بجے شنکر اچاریہ سے ہم لوگوں نے ملاقات کی۔ شنکر اچاریہ سے بہت اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہمارے پیس مشن کی مکمل حمایت کی ۔ انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ دھرم کا مطلب مذہب نہیں ہے۔ بلکہ کہ تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader