Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

(ڈیوٹی) ہے۔ یہ سیاسی لوگ ہیں جنھوں نے دھرم کو مذھب کا معنی دے دیا ہے۔ دھرم تو انسان کا کرتو ہے۔ جیسے پتنی کا دھرم، راجہ کا دھرم، وغیرہ۔ ھند کا لفظ ہماری کتابوں میں کہیں نہیں۔ یہ لیڈر ہیں جنھوں نے "ہند و" کو وہ نام دیا ہے جو آج سمجھا جاتا ہے۔ مسٹر دھر موہنتا نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہر چیز ہنس ہوگئی ہے، حتیٰ کہ روحانیت کو بھی تجارت کی چیز بنا دیا گیا ہے : Even spiritualism has been commercialised in this country. ۷ فروری ۱۹۹۳ء آج صبح کو سرینگیری سے واپس ہونا تھا۔ یہاں میں نے اپنے کمرہ میں فجر کی نماز پڑھی۔ سینہ میں جذبات کا تلاطم برپا تھا۔ مگر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ جذبات الفاظ کی صورت میں ڈھل نہیں رہے ہیں۔ جذبات جب بہت زیادہ گہرے ہوں تو کیفیات کا غلبہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ الفاظ کے لئے ساتھ دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ میں نے کہا کہ خدایا، اس دعا کو تو میری طرف سے لکھ لے جس کے لئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں۔ ہمارے ساتھی شانتی لال موتھا (پونہ) نے کل شام کو یہاں کے مطبع میں کہہ دیا تھا کہ صبح کو ہم لوگ اڈلی کا ناشتہ کریں گے۔ چنانچہ صبح کو ضروریات سے فارغ ہو کر ہم لوگ کھانے کی میز پر آئے تو کھیلے کے پتھر پر اڈلی، ناریل کی چٹنی اور کافی رکھی ہوئی تھی۔ یہ جنوبی ہند کا عمومی ناشتہ ہے۔ اس سے فراغت کے بعد ہمارا قافلہ سرینگیری سے منگلور کے لئے روانہ ہوا۔ پورا راستہ سبزہ سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے درمیان طے ہوا۔ قدرت کے پھیلے ہوئے مناظر اتھاہ سکون کا پیغام دے رہے تھے۔ کبھی کبھی سامنے سے کوئی گاڑی آتی ہوئی دکھائی دیتی۔ جب سامنے کی گاڑی اور ہماری گاڑی قریب آتی تو ٹرانسنگ اصول کے مطابق، ایک گاڑی دائیں کی طرف اور دوسری گاڑی بائیں کی طرف کترا کر نکل جاتی۔ میں نے سوچا کہ دونوں گاڑی اگر سیدھا چلنے پر اصرار کرے تو دونوں ہی تباہ ہو جائیں۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کو اوائڈ کرتی ہیں تو دونوں کو زندگی کی شاہراہ مل جاتی ہے۔ راستہ میں سوامی چندا نند اپنی دلچسپ باتیں سناتے رہے۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ پیار کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page