Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنسی ایسی ہے جو دنیا میں ہر جگہ چلتی ہے۔ پھر اس خیال کو موزوں کرتے ہوئے کہا: پیار کا دیا جلاؤ، دشمنی کا اندھیرا بھگاؤ۔ 10 بجے دن میں ہم لوگ منگلور ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ یہاں لاؤنج میں کچھ وقت گزارا۔ لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ ہم مندر ۔ مسجد پال ٹیکس کو افورڈ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ ممبئی میں میرا کارخانہ ہے۔ میں ایکسپورٹ کا سامان تیار کرتا ہوں۔ میرے علاقہ میں فساد نہیں ہوا، مگر فساد کی خبریں پھیلیں تو میرے ورک فورس کا 95 فیصد حصہ بھاگ گیا۔ اب میری انڈسٹری ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ بھلا اس طرح دیش ترقی کر سکتا ہے۔ دوسرے ہندو بھائی نے کہا کہ اشوک سنگھ جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ : دیش کو بچانا ہے غلامی کا کلنک مٹانا ہے۔ مگر یہ نعرہ بالکل الٹا ہے۔ ان لوگوں کو کہنا چاہئے کہ غلامی کا کلنک مٹانے کے نام پر دیش کو تباہ کرنا ہے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جھوٹی سیاست سے دیش کو تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ اور پھر خود ہی وہ دیش کو بچانے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اسی کو فارسی زبان میں کہا گیا ہے کہ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ یہ سیاست کی بدترین قسم ہے۔ اس میں کچھ فرضی چیزوں کو آشوب بنایا جاتا ہے۔ اور پھر چند بائی تقریروں کے ذریعہ اس کو بڑھاکر آخری حد پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کا قومی نشہ ہے، اس کا قومی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 16 کے ذریعہ منگلور سے ممبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں آج کے دو اخبار پڑھے۔ انڈین ایکسپریس اور حیدر آباد کا نیوزی ٹائم (نیوز ٹائم 14 فروری) میں رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس کو ورلڈ نیوز لنک نے ریکارڈ کیا تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلم دنیا میں جو فنڈ منٹلسٹ تحریکیں چل رہی ہیں ان کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ ڈاکٹر نصیف نے جواب دیا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے جوش کے تحت رات دن کے اندر نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں میں بھی ہیں۔ پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں میں تعلیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page